قابل تجدید توانائی پاکستان کا مستقبل ہے،اس شعبے پر توجہ دے کر پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے،ملک بھر میں قابل تجدید توانائی کے زونز تلاش کئے جائیں، وفاقی وزیر توانائی بیرسٹر علی ظفر کی قابل تجدید توانائی بورڈ کو ہدایت

اسلام آباد ۔ 20 جون (اے پی پی) توانائی کے وفاقی وزیر بیرسٹر علی ظفر نے قابل تجدید توانائی کو پاکستان کا مستقبل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں توجہ دے کر ملک میں پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قابل تجدید توانائی بورڈ کی طرف سے دی گئی ایک بریفنگ کے دوران کیا۔ اس موقع پر …

اسلام آباد ۔ 20 جون (اے پی پی) توانائی کے وفاقی وزیر بیرسٹر علی ظفر نے قابل تجدید توانائی کو پاکستان کا مستقبل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں توجہ دے کر ملک میں پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قابل تجدید توانائی بورڈ کی طرف سے دی گئی ایک بریفنگ کے دوران کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ قابل تجدید توانائی پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں بھرپور توجہ دی جارہی ہے۔ ہوا اور سورج کی روشنی کے وسائل کو بروئے کار لاکر پیدا ہونے والی توانائی سے ماحولیاتی تحفظ سمیت سستی توانائی کا حصول ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں قابل تجدید توانائی کا حصہ بڑھنے سے درآمدی تیل کے ذریعے توانائی پیدا کرنے کے مقابلے میں پاکستان پر مالی دباﺅ میں کمی آئے گی اس سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔ اس موقع پر قابل تجدید توانائی بورڈ (اے ای ڈی بی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ رواں سال کے آخر تک ملک میں قابل تجدید توانائی 2000 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس شعبے میں واضح سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ سورج کی روشنی اور ہوا سے دو ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی جاسکتی ہے اور یہ نیشنل گرڈ میں شامل ہونے والی دیگر توانائی کے مقابلے میں انتہائی سستی توانائی ہے۔ آئندہ دو سے تین سالوں میں تیل سے بجلی پیدا کرنے والے زائد المیعاد پلانٹس کی جگہ قابل تجدید توانائی کے پلانٹس سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔