پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا بین الاقوامی جریدہ بلوم برگ کو ایک انٹرویو

اسلام آباد ۔ 3 اگست (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان کو آئندہ چھ ہفتوں میں بارہ ارب ڈالر سے زائد کے بیل آٰﺅٹ پیکج کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوگا۔ جمعہ کو بین الاقوامی جریدہ بلوم برگ کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو 10سے 12 ارب ڈالر مالی خسارہ کا سامنا ہے، نئی حکومت کو خسارہ …

اسلام آباد ۔ 3 اگست (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان کو آئندہ چھ ہفتوں میں بارہ ارب ڈالر سے زائد کے بیل آٰﺅٹ پیکج کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوگا۔ جمعہ کو بین الاقوامی جریدہ بلوم برگ کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو 10سے 12 ارب ڈالر مالی خسارہ کا سامنا ہے، نئی حکومت کو خسارہ پر قابو پانے کیلئے 12 ارب ڈالر سے زائد کا بیل آﺅٹ پیکج درکار ہوگا اور اس حوالہ سے بیل آﺅٹ کے ذرائع کا فیصلہ چھ ہفتوں میں کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان زرمبادلہ کے کم ہوتے ہوئے ذخائر میں اضافہ کیلئے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور دوست ممالک سے رجوع اور بانڈز کا اجراءکرسکتا ہے۔ بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا بڑھتا ہوا مالی خسارہ عمران خان کیلئے ایک اہم چیلنج ہے جو حالیہ عام انتخابات میں زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے بعد اتحادی حکومت بنانے جارہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ میں اضافہ سے رواں سال ذرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوئی ہے جس سے مرکزی بنک کو کرنسی کی قدر میں چار فیصد کمی اور شرح سود میں اضافہ کرنا پڑا جبکہ سرمایہ کاروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیل آﺅٹ کیلئے چین یا آئی ایم ایف سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ ان کی جماعت نے تاحال کسی سے قرض کے حوالہ سے بات چیت نہیں کی ہے اورحکومت کے قیام تک اس پر باضابطہ کام شروع نہیں کیا جاسکتا۔