وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات و توانائی سیّد علی ظفر کی زیر صدارت نیشنل انرجی ایفیشنسی و کنزویشن اتھارٹی ( نیکا) کا پہلے بورڈ اجلاس، متعلقہ حکام کو نیکا کو مکمل فعال بنانے کےلئے ٹھوس کوشش کرنے کی ہدایت

اسلام آباد ۔ 09 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات و توانائی سیّد علی ظفر نے توانائی کی بچت اور حفاظت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے نیشنل انرجی ایفیشنسی و کنزویشن اتھارٹی (نیکا) اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ اتھارٹی کو مکمل فعال بنانے کیلئے ٹھوس کوششیں کی جائیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار نیشنل انرجی ایفیشنسی و کنزویشن اتھارٹی (نیکا) کے پہلے …

اسلام آباد ۔ 09 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات و توانائی سیّد علی ظفر نے توانائی کی بچت اور حفاظت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے نیشنل انرجی ایفیشنسی و کنزویشن اتھارٹی (نیکا) اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ اتھارٹی کو مکمل فعال بنانے کیلئے ٹھوس کوششیں کی جائیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار نیشنل انرجی ایفیشنسی و کنزویشن اتھارٹی (نیکا) کے پہلے بورڈ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری پاور ڈویژن رضوان میمن، سیکرٹری منصوبہ بندی ڈویژن شعیب صدیقی اور وزارت پٹرولیم، وزارت صنعت، وزارت موسمیاتی تبدیلی، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، وزارت ہاﺅسنگ، اوگرا اور توانائی کے صوبائی محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں بورڈ آف ڈائریکٹرز نے توانائی کی بچت اور حفاظت کی قومی پالیسی تیار کرنے کے منصوبے، توانائی کی بچت کی قومی ایوارڈ سکیم شروع کرنے، بجلی اور گیس کی یوٹیلٹی کمپنیوں کی طرف سے معیاری ضابطہ اختیار کرنے کی منظوری دی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نئی پبلک عمارات کی تعمیر کیلئے توانائی کی بچت کی حکمت عملی اختیار کی جائے اور پی سی ون میں اس امر کی عکاسی ہو۔ اس کے علاوہ توانائی کے تحفظ کے ضابطوں اور گرین بلڈنگ کوڈ کے طریقہ کار کو بھی اختیار کیا جائے۔ اس سلسلہ میں منصوبہ بندی کمیشن کو ہدایت کی گئی کہ وہ پبلک عمارات کی تعمیر کیلئے متعلقہ پی سی ون کے نظرثانی شدہ کے فارمیٹ کو فوری اختیار کرنے کو یقینی بنائے۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پنکھوں کیلئے انرجی لیبلنگ سکیم کے کامیاب آغاز کو بھی سراہا اور سفارش کی کہ اسی طرح کا اقدام ریفریجریٹر، ایئرکنڈیشنر اور ایل ای ڈی لائٹس کیلئے بھی لازمی بنیاد پر اختیار کیا جائے اور توانائی کم استعمال کرنے والی مصنوعات کو فروغ دیا جائے۔ پی سی ایس آئی آر کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی تصدیق شدہ لیبارٹریوں سے ان آلات کا سروے کرائے۔