راولپنڈی ۔ 23 اگست (اے پی پی) راولپنڈی۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے ریلوے کا 40 ارب خسارہ ختم کرنے کا چیلنج قبول کر لیا، ان کا کہنا ہے کہ پشاور سے لاہور تک ڈبل ٹریک بنانا اولین ترجیح ہے، ریلوے کو منافع بخش بنانے کےلئے 18 گھنٹے کام کروں گا، لوگوں کو روزگار بھی ملے گا اور ریوینو بھی بڑھائیں گے، سابقہ حکومت کرپٹ تھی، بتایا گیا سب …
وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کی راولپنڈی ریلوے سٹیشن کے دورے کے بعد میڈیا سے بات چیت

مزید خبریں
راولپنڈی ۔ 23 اگست (اے پی پی) راولپنڈی۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے ریلوے کا 40 ارب خسارہ ختم کرنے کا چیلنج قبول کر لیا، ان کا کہنا ہے کہ پشاور سے لاہور تک ڈبل ٹریک بنانا اولین ترجیح ہے، ریلوے کو منافع بخش بنانے کےلئے 18 گھنٹے کام کروں گا، لوگوں کو روزگار بھی ملے گا اور ریوینو بھی بڑھائیں گے، سابقہ حکومت کرپٹ تھی، بتایا گیا سب اچھا ہے لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔ گزشتہ روز راولپنڈی ریلوے سٹیشن کے دورے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں ریلوے میں 35 سے 40 ارب کا خسارہ جہیز میں ملا ہے، وزیر اعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ ریلوے کا خسارہ ختم کرنا ہے، میں یہ چیلنج قبول کرتا ہوں، ریلوے کو نعرہ دیا ہے کہ آرام حرام ہے، ریلوے کو ٹھیک کرنا میری ذمہ داری ہے اور میں قوم سے وعدہ کرتا ہوں کہ ریلوے کو منافع بخش بنانے کےلئے 18 گھنٹے کام کروں گا، لوگوں کو روزگار بھی ملے گا اور ریوینو بھی بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کے ساتھ انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی، سب سے پہلے میرا احتساب کیا جائے، آدھا ریلوے نیب زدہ ہے، ہم نے دگنی قیمت پر انجن خریدے ہیں، جو لوگ نیب کو مطلوب ہیں انہیں سرنڈر کرنا ہوگا، کرپشن پر برداشت صفر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ لوگ سہولت والا سفر چاہتے ہیں، نئی ٹرینوں پر 10 فیصد رعایت ہوگی، ریلوے کے تمام ریسٹ ہاﺅس کو پرائیویٹ سیکٹر کےلئے کھول دیں گے، ریلوے کی پٹری بھی کرائے پر دینے کےلئے تیار ہیں، اگلے ہفتے دو نئی ٹرینوں کا اعلان کریں گے، سواری کی کمی نہیں ہے فریٹ کی جانب توجہ دینی ہوگی۔ ڈی ایس ریلوے کو کہا ہے کہ اخراجات میں فلور کمی لائی جائے۔








