اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے روہنگیا مسلمانوں پر میانمر کی فوج کے انسانیت سوز مظالم کو دنیا کا بدترین بحران قرار دے دیا ، سلامتی کونسل سے ذمہ داروں کا سخت احتساب کرنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ ۔ 29 اگست (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترش نے روہنگیا مسلمانوں پر میانمر کی فوج کے انسانیت سوز مظالم کو انسانی اور حقوق انسانی کے حوالہ سے دنیا کا بدترین بحران قرار دیتے ہوئے سلامتی کونسل سے اس کے ذمہ داروں کا سخت احتساب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے تمام …

اقوام متحدہ ۔ 29 اگست (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترش نے روہنگیا مسلمانوں پر میانمر کی فوج کے انسانیت سوز مظالم کو انسانی اور حقوق انسانی کے حوالہ سے دنیا کا بدترین بحران قرار دیتے ہوئے سلامتی کونسل سے اس کے ذمہ داروں کا سخت احتساب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے تمام اداروں کو یو این فیکٹ فائنڈنگ مشن کی رپورٹ اور انسانی حقوق کونسل کی اس حوالہ سے سفارشات پر فوری اور سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔اس المیہ کے ذمہ داروں کے شفاف، غیر جانبدارانہ اور قابل اعتماد احتساب کے مکینزم کی تشکیل کی غرض سے بین الاقوامی سطح پر موثر تعاون بے حد ضروری ہے۔انہوں نے بنگلہ دیش میں روہنگیا مسلمانوں کے کیمپوں کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر انہوں نے روہنگیا مہاجرین سے میانمر کی فوج کے انسانیت سوز مظالم کی داستانیں سنیں۔اس موقع پر ایوارڈ یافتہ امریکی اداکارہ اور ہائی کمیشن برائے مہاجرین کے لئے اقوام متحدہ کی خیر سگالی سفیر کیٹ بلانشٹ اور یو این ڈی پی کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر تگیگنی ورک گیٹو نے بھی خطاب کیا۔انہوں نے بتایا کہ اس دورے کے دوران ایک روہنگیا مسلمان یہ بتاتے ہوئے رو پڑا کہ اس کے بیٹے کو اس کے سامنے فائرنگ کر کے قتل کیا گیا، اس کی ماں کو بھی بے رحمی سے قتل کر دیا گیا اور اس کے گھر کو جلا دیا گیا ۔اس کے بعد اس نے ایک قریبی مسجد میں پناہ لی تو میانمر کی فوج کے اہلکاروں نے وہاں اس سے بدسلوکی کی۔اس مسلمان نے مزید کہا کہ وہ میانمر میں تحفظ اور اپنی شہریت چاہتے ہیں۔وہ اپنی بیٹیوں، بہنوں اور ماﺅں سے ہونے والے سلوک پر انصاف کے طلبگار ہیں۔