راولپنڈی ۔ 14 جنوری (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عوام کو صحت اور تعلیم کی سہولیات کی فراہمی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے یہ دونوں شعبے بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں، صحت کے میدان میں نجی شعبہ کو بھی اپنا فعال کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے یہ بات …
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا پنجاب ہیلتھ فاﺅنڈیشن کے دوسرے روڈ شو کی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
راولپنڈی ۔ 14 جنوری (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عوام کو صحت اور تعلیم کی سہولیات کی فراہمی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے یہ دونوں شعبے بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں، صحت کے میدان میں نجی شعبہ کو بھی اپنا فعال کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے یہ بات پیر کو یہاں ”صحت کے اقدامات کے ذریعے انسانی وسائل پر سرمایہ کاری“ کے عنوان سے پنجاب ہیلتھ فاﺅنڈیشن کے دوسرے روڈ شو کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس منصوبہ کے تحت صحت کے شعبہ میں سود سے پاک قرضوں کو وسعت دی جا رہی ہے جس سے ایک لاکھ کے قریب ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں صحت کے میدان میں نجی شعبہ اہم کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان میں بھی صحت کے شعبہ میں پرائیویٹ سیکٹر کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے طب کے پیشہ سے منسلک افراد کو سود سے پاک قرضوں کی فراہمی کے ذریعے حکومت پنجاب کے اس اقدام کے بارے میں عوام میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن سروسز بھی صحت کے شعبہ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، نجی شعبہ کو اس پر بھرپور توجہ دینی چاہئے۔ پنجاب حکومت کے روڈ شو کے اقدام کی تعریف کرتے ہوئے صدر مملکت نے میڈیکل پریکٹیشنرز پر زور دیا کہ وہ اس موقع سے استفادہ کریں جس سے بالواسطہ روزگار بھی پیدا ہو گا۔ انہوں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ قرضوں کی واپسی کی شرح اب تک تقریباً 97 فیصد ہے جو بہت حوصلہ افزاءہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو غربت اور بے روزگاری سے نجات دلانے کیلئے صحت و تعلیم کے شعبوں پر وسیع تر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں چین کی مثال پیش کی جس نے کروڑوں لوگوں کو ایک دہائی کے عرصہ میں غربت کے چنگل سے نکالا۔ صدر مملکت نے کہا کہ صحت کے شعبہ میں ہیلتھ کارڈ کا اجراءبڑی پیشرفت ہے جس سے معاشرہ کے غریب طبقوں کو سہولت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ معاشرہ میں صحت کے شعبہ میں دو متضاد مسائل کا سامنا ہے، ایک طرف آبادی کا کچھ حصہ موٹاپے کا شکار ہے جبکہ دوسرے طبقہ کو غذائی قلت اور سٹنٹڈ گروتھ کا مسئلہ درپیش ہے۔ صدر نے غیر صحت مند رجحانات سے گریز کرتے ہوئے ہیلتھ فٹنس بارے شعور اجاگر کرنے پر بھی زور دیا اور غیر صحت مند رجحانات کی حوصلہ شکنی کیلئے حکومت کی طرف سے سگریٹوں اور کاربونیٹڈ مشروبات پر ٹیکس عائد کئے جانے کی تعریف کی۔ صدر نے کہا کہ انہوں نے وزیر صحت کو ملک میں ”فٹنس ڈے“ منانے کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے نوزائیدہ بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا تاکہ آنے والی نسلیں سٹنٹڈ گروتھ کا شکار نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں بیماریوں کی روک تھام کےلئے احتیاط ضروری ہے، صحت مند سرگرمیوں سے دوری کے باعث متعدد بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ قبل ازیں وفاقی وزیر صحت عامر محمود کیانی نے کہا کہ صحت کا شعبہ ماضی کی حکومتوں کی ترجیح نہیں رہا لیکن پی ٹی آئی کی حکومت اس رجحان کو تبدیل کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جنوری کے آخر تک ہیلتھ کارڈز کے اجراءکے عمل کو آگے بڑھایا جا رہا ہے جس سے ڈیڑھ سے 2 کروڑ لوگوں کو فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ نرسنگ کے شعبہ کو بھی قلت کا سامنا ہے، 2030ءتک ملک کو تقریباً 10 لاکھ نرسوں کی خدمات درکار ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اسلام آباد میں ایک نرسنگ یونیورسٹی قائم کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ ہسپتال بھی تعمیر کئے جا رہے ہیں، پی ایم ڈی سی اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) کی بھی تشکیل نو کی جا رہی ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات کی بھی تعریف کی۔ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کے بارے میں وزیر صحت نے کہا کہ یہ ادویہ ساز کمپنیوں کا دیرینہ مطالبہ تھا جو ڈالر کی قدر میں اضافہ کی وجہ سے شدید دباﺅ میں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو مفت ادویات فراہم کر ہی ہے۔ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ صوبہ کی بہت بڑی آبادی ہے جس کیلئے صحت کے میدان میں نجی شعبہ کی توجہ درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال کے اختتام تک پنجاب حکومت کے اس اقدام سے روزگار کے ایک لاکھ مواقع پیدا ہوں گے۔ پنجاب ہیلتھ فاﺅنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر امجد بھٹی اور سیکرٹری سپیشلائز ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ثاقب ظفر نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ قرضہ کی سہولت سے 45 مزید متعلقہ شعبوں کو سہولت دی جا رہی ہے۔ درخواست گزار 2 لاکھ سے 30 لاکھ روپے تک قرضہ کی درخواست دے سکتے ہیں جسے آسان اقساط میں واپس کیا جا سکتا ہے۔








