اسلام آباد ۔ 15 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات اور شماریات ڈویژن مخدوم خسرو بختیار نے زور دیا ہے کہ چین سے فارغ التحصیل پاکستانی گریجویٹس کا ڈیٹا بیس برقرار رکھنا چاہئے تاکہ مختلف شعبوں کےلئے ہنرمند افراد پر مشتمل پول دستیاب ہو، پول کو سی پیک فریم ورک کے تحت مختلف شعبوں کی ترقی کےلئے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ انہوں …
وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار سے نسٹ کے شعبہ چائینز سٹڈیز سنٹر آف ایکسیلنس کے وفد کی ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 15 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات اور شماریات ڈویژن مخدوم خسرو بختیار نے زور دیا ہے کہ چین سے فارغ التحصیل پاکستانی گریجویٹس کا ڈیٹا بیس برقرار رکھنا چاہئے تاکہ مختلف شعبوں کےلئے ہنرمند افراد پر مشتمل پول دستیاب ہو، پول کو سی پیک فریم ورک کے تحت مختلف شعبوں کی ترقی کےلئے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو نسٹ کے شعبہ چائینز سٹڈیز سنٹر آف ایکسیلنس کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں پراجیکٹ ڈائریکٹر سی پیک حسان داﺅد اور وزارت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت نے چین کی حکومت کے ساتھ مل کر اقتصادی راہداری کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے زراعت، غربت کے خاتمہ، سماجی و اقتصادی اور تکنیکی مہارت کے شعبوں کو شامل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال 25 ہزار کے قریب پاکستانی طلباءچین میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ شعبوں میں چین سے فارغ التحصیل طلباءسی پیک کی ترقی اور کامیابی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت غربت کے خاتمہ اور عوام کی معاشی و سماجی ترقی کےلئے کئی پائلٹ منصوبوں کا آغاز کر رہی یے اور ان شعبوں میں چین سے فارغ التحصیل پاکستانی ماہرین ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اجلاس کے دوران یہ بتایا گیا کہ سی پیک سنٹر آف ایکسیلنس ، پائیڈ اور وزارت منصوبہ بندی ہائر ایجوکیشن کمیشن اور نیوٹیک کے تعاون سے ہنرمند افراد کی دستیابی کےلئے آن لائن جاب پورٹل بنا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نسٹ کے چائینز سٹڈیز سنٹر آف ایکسیلنس چائینہ سے فارغ التحصیل پاکستانی گریجویٹس کو اس جاب پورٹل پر رجسڑ کرنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے جس سے نوکری کے حصول کےلئے مدد ملے گی۔








