اسلام آباد ۔ 20 فروری (اے پی پی) قومی اسمبلی نے مقبوضہ کشمیر میں حق خود ارادیت کے لئے جدوجہد کرنے والے کشمیریوں پر بھارتی ظلم و جبر اور بھارت میں کشمیری طلباءکو نشانہ بنانے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے بھارت سے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے، ایوان نے اتفاق رائے سے قرارداد کی …
قومی اسمبلی، مقبوضہ کشمیر میں حق خود ارادیت کے لئے جدوجہد کرنے والے کشمیریوں پر بھارتی مظالم اور بھارت میں کشمیری طلباءکو نشانہ بنانے کے خلاف قرارداد مذمت منظور

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 فروری (اے پی پی) قومی اسمبلی نے مقبوضہ کشمیر میں حق خود ارادیت کے لئے جدوجہد کرنے والے کشمیریوں پر بھارتی ظلم و جبر اور بھارت میں کشمیری طلباءکو نشانہ بنانے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے بھارت سے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے، ایوان نے اتفاق رائے سے قرارداد کی منظوری دیدی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ میں بھارت کی سنٹرل ریزرو فورس (سی آر پی ایف) کے اہلکاروں پر حملے کے بعد بھارت کی طرف سے پاکستان پر تحقیقات اور ٹھوس شواہد کے بغیر بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ یہ ایوان پلوامہ حملے کے بعد مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں کشمیری طلباءاور کشمیری باشندوں کو ہراساں کرنے اور انہیں نشانہ بنانے کی مذمت کرتا ہے اور بھارت سے کہتا ہے کہ بھارت کے پاس اگر کوئی قابل عمل شواہد ہیں تو وہ پاکستان کو فراہم کرے، کسی کو پاکستان کے عزم پر شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان وزیراعظم عمران خان کی طرف سے پلوامہ واقعہ کے بارے میں قابل عمل ثبوت پیش کرنے پر کارروائی کی پیشکش کا بھارت کی جانب سے مثبت جواب نہ دینے پر افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ جموں و کشمیر ابھی تک ایک تصفیہ طلب مسئلہ ہے جو برصغیر کی تقسیم سے چلا آ رہا ہے اور بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کا بازار گرم کئے ہوئے ہے۔ یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ خطے میں پائیدار اور امن واستحکام سے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ ایوان بھارت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں فوری طور پر انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا سلسلہ بند کر دے اور جموں و کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی ان قراردادوں پر عمل درآمد کرے جن میں جموں و کشمیر کے عوام کی قسمت کا فیصلہ ایک غیر جانبدار رائے شماری کے ذریعے کئے جانے کا کہا گیا ہے۔ ایوان نے متفقہ طور پر قرارداد کی منظوری دیدی۔








