اسلام آباد ۔ 21 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ فہمیدہ مرزا نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے رویہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کو میرے ایوان میں بولنے سے کیا خوف تھا کہ انہوں نے میری باری پر پارلیمان کو یرغمال بنالیا، بطور سابق سپیکر قومی اسمبلی میری اور میرے شوہر اور بچوں کی زندگی کو خطرہ ہوا، میرے گھر پر بھی …
وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ فہمیدہ مرزا کی قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے رویہ کی مذمت

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 21 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ فہمیدہ مرزا نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے رویہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کو میرے ایوان میں بولنے سے کیا خوف تھا کہ انہوں نے میری باری پر پارلیمان کو یرغمال بنالیا، بطور سابق سپیکر قومی اسمبلی میری اور میرے شوہر اور بچوں کی زندگی کو خطرہ ہوا، میرے گھر پر بھی چھاپے مارے گئے لیکن میں نے پارلیمنٹ کو یرغمال نہیں بنایا، اس وقت یہ لوگ کہاں تھے، اپنا موقف پارلیمنٹ میں پیش کرکے رہوں گی جو میرا استحقاق ہے۔ جمعرات کو پارلیمنٹ ہاوس کے باہر وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری، وفاقی وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان، وزیراعظم کے مشیر برائے سی ڈی اے امور علی نواز اعوان اور دیگر پارٹی اراکین کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فہمیدہ مرزا نے کہا کہ میں 2008ءسے 2013ءتک قومی اسمبلی کی سپیکر اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون سپیکر رہی اور جس خوش اسلوبی سے میں نے ایوان چلایا پوری دنیا نے دیکھا ہے لیکن بہت دکھ اور افسوس ہوا کہ آج ایک سینئر رکن نے سابق سپیکروں کی فہرست تو گنوادی لیکن انہوں نے پہلی خاتون سپیکر کا نام تک لینا گوارا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے سندھ حکومت جو میرے اور میرے خاندان کے ساتھ کرچکی ہے وہ سب کے سامنے ہے لیکن میں نے کبھی ایوان کو یرغمال نہیں بنایا، میرے گھر پر بھی چھاپے مارے گئے تھے لیکن آج آغا سراج درانی پر پارلیمان کو یرغمال بنانے والے اس وقت کہاں تھے، انہوں نے اس وقت آواز کیوں بلند نہیں کی۔ فہمیدہ مرزا نے کہا کہ میں آج سندھ اسمبلی کے سپیکر کی گرفتاری کے معاملہ پر بولنا چاہتی تھی لیکن اپوزیشن کو نہ جانے کیا خوف تھا کہ انہوں نے مجھے بولنے نہیں دیا اور پارلیمنٹ کو یرغمال بنالیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اسمبلی میں ہمیشہ بدین کے لوگوں کو پینے کے پانی کی فراہمی اور ان کے حقوق کی بات کی ہے، آپ سندھ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں، بدین کے لوگوں کو صاف پینے کا پانی نہ ملنے کی وجہ سے ہیپاٹائٹس پھیل رہا ہے اور انتہائی افسوس کہ بطور اپوزیشن عوامی حقوق کی بات کرنے کے بجائے آپ شخصیات کی خاطر پارلیمنٹ کو استعمال کرنا چاہتے ہیں اور میری آواز دباتے ہیں، ابھی تو میں نے کچھ بولا ہی نہیں تھا تو پھرآپ کو کس بات کا خوف تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں اپوزیشن کے اس رویہ کی مذمت کرتی ہوں، سندھ کارڈ استعمال نہ کیا جائے، میں ایوان میں اپنی آواز اٹھا کر رہوں گی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ یہ شرم کی بات ہے کہ اپوزیشن سابق سپیکر کو برداشت نہیں کر رہی، اپوزیشن کی اصلیت آہستہ آہستہ واضح ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا رویہ شرمناک تھا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے بیان کو بھارت نے عالمی عدالت انصاف میں بطور ثبوت پیش کردیا، اس پر بھی انہیں شرم نہیں آئی۔ شیریں مزاری نے کہا کہ اپوزیشن کے عزائم منکشف ہوگئے ہیں، اپوزیشن پارلیمانی نظام کو خود دھکا دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے اپوزیشن اس طرح کیوں کر رہی ہے ان کی سازشیں کھل کر سامنے آ رہی ہیں۔








