وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کو خط

اسلام آباد ۔ 23 فروری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پلواما کے واقعہ کے بعد بھارتی مقبوضہ کشمیرمیں بالخصوص اور پورے بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال بد سے بد تر ہو تی جا رہی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور متعلقہ ایشوز کے حوالے سے اقوام متحدہ کے …

اسلام آباد ۔ 23 فروری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پلواما کے واقعہ کے بعد بھارتی مقبوضہ کشمیرمیں بالخصوص اور پورے بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال بد سے بد تر ہو تی جا رہی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور متعلقہ ایشوز کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ کشمیری مظاہرین کے خلاف پیلٹ گنوں کا استعمال، بھارت کی طرف سے کشمیریوں اور پاکستان کے ساتھ سیاسی مذاکرات سے صاف انکار اور کشمیریوں کو فائرنگ کرکے جان سے مارنے کے احکامات کا سلسلہ پہلے سے ہی جاری تھا اور اب کشمیریوں کے خلاف پورے بھارت میں نفرت اور تشدد کی ایک سوچی سمجھی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔جموں کشمیر میں پریشان کن صورتحال بین الاقوامی انسانی قانون بالخصوص 4 جنیوا کنونشنز کے اعتبار سے بھی توجہ کی طلبگار ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں مسلح تنازعہ کی نوعیت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ نا گزیر ہو چکا ہے کہ بھارت پر جنیوا کنونشنز کے تحت اپنی ذمہ داریاں دیانتداری سے نبھانے کے لئے بین الاقوامی دباﺅ بڑھایا جائے۔ وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر پر زور دیا کہ وہ یو این مشنریز کی مقبوضہ کشمیر میں بلا روک ٹوک رسائی کے لئے بھارت پر دباﺅ ڈالے اوربھارت کو مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کا پابند بنائے۔ انہوں نے کہا کہ 14 فروری کے پلواما میں بھارتی پیرا ملٹری اہلکاروں پر حملہ کو با مقصد انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے سازش کے تحت بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام عائد کیا جس کا واضح مقصد بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانا،حق خود ارادیت سمیت اپنے جائز سیاسی اور بنیادی انسانی حقوق کے لئے جدو جہد کرنے والوں کو دہشت گرد ٹہرانا تھا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ جموں کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے جس پر بھارت نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر نمایاں معاملہ ہے جبکہ بھارت اس سلسلہ میں سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق بھارتی تسلط سے آزادی کے لئے ایک لاکھ سے زائد کشمیری اپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں جبکہ بھارتی قابض افواج کشمیریوں پر تشدد اور مظالم کا سلسلہ بدستور جاری رکھے ہوئے ہے۔ کشمیری خواتین پر جنسی تشددکے الزامات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ 1989میں جدوجہد کے آغاز سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں جس نے اپنا کوئی رشتہ دار یا قریبی عزیز نہ کھویا ہو۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں تعینات 7 لاکھ سے زائد سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر جبر و بربریت نے کشمیریوں بالخصوص نوجوانوں کو متحد کر دیا۔بھارت نے خود تسلیم کیا ہے کہ پلواما حملہ ایک کشمیری نوجوان نے کیا جو بھارتی قید میں تھا۔ بھارتی حکومت اس حملے کو آئندہ عام انتخابات میں سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہی ہے اور بھارت کشمیریوں اور پاکستان دونوں کے ساتھ سیاسی مذاکرات سے راہ فرار اختیار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ بھارت نے ہندوشدت پسند عناصر کی جانب سے کشمیریوں کے خلاف تشدد کی کاروائیوں پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان رواں ہفتے انسانی حقوق سے متعلق یورپی پارلیمنٹ کی ذیلی کمیٹی کی جانب سے بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کرانے کے مطالبے کا خیر مقدم کرتا ہے۔ وزیر خارجہ نے انسانی حقوق کمیشن سے استدعا کی ہے کہ وہ صورتحال کی نگرانی کرے اور نسلی شناخت کی بنیاد پر لوگوں کو ہر قسم کے تشدد سے تحفظ کی فراہمی میں اپنے موئثر کردارکو یقینی بنائے۔

مزید خبریں

Leave a Reply