اسلام آباد ۔ 15 مارچ (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ وسائل کی کمی سے دوچار پاکستان جیسے ممالک میں بیماریوں سے بچاو اور تدارک پر زور دینا چاہیے کیوں کہ زیادہ تر بیماریاں قابل بچاو ہیں جبکہ ہمارا ملک ہر مریض کو علاج کی سہولتیں فراہم نہیں کر سکتا ، پاکستان ایک امن پسند ملک ہے ، پاکستانی قوم امن سے رہنا چاہتی …
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا 23 ویں عالمی رہیماٹولوجی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 15 مارچ (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ وسائل کی کمی سے دوچار پاکستان جیسے ممالک میں بیماریوں سے بچاو اور تدارک پر زور دینا چاہیے کیوں کہ زیادہ تر بیماریاں قابل بچاو ہیں جبکہ ہمارا ملک ہر مریض کو علاج کی سہولتیں فراہم نہیں کر سکتا ، پاکستان ایک امن پسند ملک ہے ، پاکستانی قوم امن سے رہنا چاہتی ہے اور ہم معاشی ترقی کرنا چاہتے ہیں ، پاکستان بیرون ملک مقیم پاکستانی ماہرین کواپنے وطن میں خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہے ، بیماریوں سے بچاو¿ اور تدارک کے لیے لیڈی ہیلتھ ورکرز اور مساجد اپنا کردار ادا کریں ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان سوسائٹی آف رہیماٹولوجی کے زیر اہتمام کراچی کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ 23 ویںعالمی رہیماٹولوجی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،کانفرنس میں یورپی، مشرق وسطیٰ ، افریقی ، ایشیائی اور لاطینی امریکہ سے دو درجن سے زائد ماہرین کے علاوہ پاکستان کے مختلف شہروں سے مندوبین شریک ہیں ،افتتاحی تقریب سے پاکستان سوسائٹی آف رہیماٹولوجی کی صدر پروفیسر سومائرہ فرمان راجا، کانفرنس کے کنوینر ڈاکٹر محفوظ عالم نے بھی خطاب کیا، تقریب میں انڈس اسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پروفیسر عبد الباری خان، پروفیسر شکیل بیگ اور دیگر بھی شریک تھے۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں صحت کا بجٹ بڑھنا چاہیے لیکن پاکستان جیسا ملک جو وسائل کی شدید کمی کا شکار ہے وہاں پر علاج کے ساتھ ساتھ بیماریوں کے تدارک پر بھی زور دینا چاہیے ، ان کا کہنا تھا کہ ایک میڈیکل پروفیشنل کی حیثیت سے وہ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹروں کی مدد سے 95فیصد بیماریوں سے بچاو¿ ممکن ہے ، بالکل اسی طرح دیگر تمام بیماریوں سے بھی بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے ،انہوں نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز جو کہ گھر گھر جا کر صحت کے متعلق آگاہی فراہم کرتی ہیں وہ بیماریوں سے تدارک میں اپنا کردار ادا کریں ، ان کا کہنا تھا کہ خواتین میں چھاتی کے کینسر کی دیر سے تشخیص کی وجہ سے بہت سی خواتین اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں اس سلسلے میں بھی لیڈی ہیلتھ ورکرز گھر گھر جا کر آگاہی فراہم کرکے بہت سی خواتین کی زندگیاں بچا سکتی ہیں ، اسی طریقے سے مساجد کو صحت و صفائی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ، اسلام میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے جو بیماریوں سے بچاو¿ کا ایک اہم ذریعہ ہے ،ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی اب ایک میچور قوم بن چکے ہیں ہم امن چاہتے ہیں ، ہم انسانیت سے محبت کرنے والے لوگ ہیں ، جس کی واضح مثال یہ ہے کہ ہم نے آج سے تیس سال پہلے پینتیس لاکھ افغانوں کو پناہ دی جبکہ اس وقت ہمارے معاشی حالات ہمیں اس کی قطعیاجازت نہیں دیتے تھے ، ان افغان مہاجرین میں سے 25لاکھ آج بھی ہمارے شہروں میں رہ رہے ہیں جو ہماری مہمان نوازی اور انسانیت پسندی کی ایک بہت اہم نشانی ہے ،ان کا کہنا تھا کہ حکومت صحت کی سہولتوں کو عام کرنے کے لیے کافی رقم خرچ کر رہی ہے ، ہیلتھ انشورنس کا اجراءکیا جا رہا ہے جبکہ طبی تعلیم کا معیار بھی بہتر ہوا ہے لیکن ہمیں علاج کے ساتھ ساتھ تدارک اور بچاو¿ کو فروغ دینا ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ کئی پاکستانی ماہرین بیرون ملک خدمات انجام دے رہے ہیں ، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ وہ واپس آئیں اور اپنے ملک میں عوام کی خدمت کریں ، انہوں نے کہا کہ ہمیں نفرت کی سیاست سے بچنا ہوگا، کراچی نے نفرت کو تین دہائیوں تک بھگتا ہے ، ہمیں علم کو عام کرناہوگا،انہوں نے پاکستان سوسائٹی آف رہیماٹولوجی کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی کاوشوں سے ملک میں ان بیماریوں کے ماہرین کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا، پروفیسر سومائرہ فرمان راجا نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو 2000سے زائد رہیماٹولوجسٹ کی ضرورت ہے جبکہ بچوں کی بیماریوں کے 800سے زائد ماہرین ملک میں ہونے چاہئیں تاکہ پاکستانی عوام کو ان بیماریوں اور معذوری سے بچایا جا سکے ، ان کا کہنا تھا کہ پٹھوں اور جوڑوں کی بیماریاں اس وقت لوگوں کو معذوری سے دوچار کر رہی ہیں لیکن انہیں مناسب علاج فراہم کرکے مستقل معذوری سے بچایا جا سکتا ہے ، کانفرنس کے کنوینر ڈاکٹر محفوظ عالم نے کہا کہ اگرچہ ملک میں جوڑوں اور پٹھوں کے امراض کے ماہرین کی تعداد کم ہے لیکن اس کی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی واضح مثال صدر مملکت کا اس کانفرنس میں شرکت کرنا ہے۔








