لبنان نے کہا ہے کہ اس کے علاقے پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مذاکرات کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات لبنان کے وزیر خارجہ و تارکین وطن یوسف رجی نے ذرائع ابلاغ کو انٹرویو کے دوران کہی
اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا واحد راستہ صرف مذاکرات ہیں،لبنان
بیروت۔21ستمبر (اے پی پی):لبنان نے کہا ہے کہ اس کے علاقے پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مذاکرات کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات لبنان کے وزیر خارجہ و تارکین وطن یوسف رجی نے ذرائع ابلاغ کو انٹرویو کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ لبنان نے مذاکرات کے ذریعے بیروت اور اس کے اطراف پر حملے روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا یہ راستہ طویل اور پیچیدہ ہے لیکن ان کا ملک اپنی مکمل خودمختاری کی بحالی تک اس پر گامزن رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ فوجی حل نے جنوبی لبنان کو تباہ کر دیا ہے ، اس کے باسیوں کو بے گھر کر دیا ہے لیکن لبنان نے اسرائیلی حملوں کو روکنے اور لبنانی سرزمین کو واپس حاصل کرنے کے راستے کے طور پر مذاکرات کے راستے کا انتخاب کیا ہے۔ ہتھیاروں کو ریاست کے پاس محدود کرنے کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ ریاست کے ہاتھ میں ہتھیاروں کی اجارہ داری کا فیصلہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ہتھیاروں کی اجارہ داری ایک لبنانی مطالبہ ہے اور کوئی بھی نارمل ریاست ملیشیا کے ساتھ زندہ نہیں رہتی۔ لبنانی وزیر خارجہ کہا کہ خانہ جنگی لبنانیوں کی لغت میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ خانہ جنگی کو ہوا دے رہے ہیں وہ لبنانی ریاست کو اپنی خودمختاری کو مستحکم کرتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ جہاں تک جنوبی لبنان میں بین الاقوامی فوج کے معاملے کا تعلق ہے لبنانی حکومت اقوام متحدہ کےزیر کنٹرول ایک ایسی بین الاقوامی فورس کو تعینات کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یو این آئی ایف آئی ایل ) کا متبادل ہو۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ لبنان بشمول ایران تمام ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے کا خواہاں ہے۔








