اسلام آباد ۔ یکم اپریل (اے پی پی)وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان میں آئی ٹی ٹیلی کام سیکٹر میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے متوازن پالیسی تیار کر رہے ہیں، ملک میں براڈ بینڈ کے فروغ کیلئے کوشش کر رہے ہیں، موبائل فون کمپنیوں کے لائسنسوں کی تجدید کیلئے فیس میں یکساں مواقع فراہم ہوں گے، وزارت کیلئے مختص کئے جانے والے …
وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ یکم اپریل (اے پی پی)وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان میں آئی ٹی ٹیلی کام سیکٹر میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے متوازن پالیسی تیار کر رہے ہیں، ملک میں براڈ بینڈ کے فروغ کیلئے کوشش کر رہے ہیں، موبائل فون کمپنیوں کے لائسنسوں کی تجدید کیلئے فیس میں یکساں مواقع فراہم ہوں گے، وزارت کیلئے مختص کئے جانے والے فنڈز میں کسی قسم کی کٹوتی نہیں ہو گی، این ایف سی ایوارڈ فارمولہ کو صوبہ کے اندر ضلعی حکومتوں کو فنڈز کی تقسیم پر بھی لاگو کرنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں موبائل فون کمپنی کے زیر اہتمام ایک سمپوزیم میں شرکت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کی ریگولیشن کیلئے یقیناً اقدامات ہونے چاہئیں، یہ اس لئے ضروری ہے کہ ہماری اخلاقی اور ثقافتی حدود و قیود ہیں جنہیں کسی صورت عبور کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی کام سیکٹر میں سرمایہ کاری کیلئے وسیع مواقع کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اس شعبہ میں یکساں مواقع فراہم کئے جائیں گے، ہم ایسی کوششیں کر رہے ہیں کہ سب کا فائدہ ہو، کسی کو نقصان نہ پہنچے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یو فون کے لائسنس کی تجدید جس فیس پر کی گئی ہے یہ پرانی بات ہے، ہمیں آگے بڑھنا ہے اور ہم چاہیں گے کہ تمام صورتحال کو مدنظر رکھ کر ایسا فیصلہ کریں جس پر سب مطمئن ہو جائیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فنڈز میں بجٹ کے دوران کسی قسم کی کٹوتی کا فیصلہ نہیں ہوا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی طرف سے این ایف سی ایوارڈ پر عملدرآمد کا مطالبہ درست ہے مگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ این ایف سی کی طرح صوبہ کے اندر اضلاع کی سطح پر بھی فنڈز کی تقسیم آبادی کے لحاظ سے کی جائے اور اسی طرح کے فارمولے پر عمل کیا جائے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نام بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا، ہمیں کام پر توجہ دینی چاہئے، نام پر کنٹرو ورسی کی بجائے کام پر کنٹرو ورسی ہونی چاہئے۔ انہوں نے ایک اور سوال پر کہا کہ بلاول بھٹو کو شاگردی میں لینے کیلئے جاری جھگڑے میں ہم ملوث نہیں ہیں مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ سیاست کی تعلیم لینے میں کوئی حرج نہیں، بلاول سمیت دوسرے سیاستدانوں کو بھی سیاسی مکتب میں جانا چاہئے اور سیاست کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کی تعلیم بھی حاصل کرنی چاہئے، بلاول چاہیں جس کی مرضی شاگردی اختیار کریں۔








