اسلام آباد ۔ 3 اپریل (اے پی پی)وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر کو پن بجلی کے استعمال کیلئے ایک روپے 10 پیسے فی یونٹ کی ادائیگی کی منظوری دےدی ہے جس سے آزاد کشمیر کو سالانہ 70 کروڑ روپے کی بجائے اب 11 ارب روپے ملیں گے، نیلم۔جہلم پن بجلی منصوبہ 103 فیصد کی پیداواری استعداد پر چل رہا …
وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا کا پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 اپریل (اے پی پی)وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر کو پن بجلی کے استعمال کیلئے ایک روپے 10 پیسے فی یونٹ کی ادائیگی کی منظوری دےدی ہے جس سے آزاد کشمیر کو سالانہ 70 کروڑ روپے کی بجائے اب 11 ارب روپے ملیں گے، نیلم۔جہلم پن بجلی منصوبہ 103 فیصد کی پیداواری استعداد پر چل رہا ہے، مہمند ڈیم کی تعمیر کا ابتدائی کام شروع ہو گیا ہے، ممکنہ سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، صوبوں کو بھی اپنے طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کو پن بجلی کیلئے پانی کے استعمال کے حوالہ سے ادائیگی کا معاملہ کافی عرصہ سے زیر التواءتھا اور 2016ءمیں جب دیگر صوبوں کیلئے اس کی منظوری دی گئی تھی تو آزاد کشمیر کیلئے بھی دی جانی چاہئے لیکن اب ہماری حکومت نے سیاسی وابستگی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آزاد کشمیر کو ایک روپے 10 پیسے فی یونٹ کے حساب سے پن بجلی کیلئے پانی کے استعمال کی مد میں ادائیگی کی جائے گی، اس سے پہلے آزاد کشمیر کو سالانہ 70 کروڑ روپے مل رہے تھے، آزاد کشمیر کے عوام بھی باقی ملک کے عوام کی طرح ہمیں عزیز ہیں، حکومت کے اس اقدام سے آزاد کشمیر میں عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کو پانی کے استعمال کے حوالہ سے ادائیگی منگلا ڈیم اور مستقبل کے تمام منصوبوں پر بھی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ نیلم۔جہلم پن بجلی منصوبہ سے 50 ارب روپے کا فائدہ رواں سال سے ملنا شروع ہو جائے گا، عام طور پر پیداواری استعداد 70 سے 85 فیصد تک ہوتی ہے تاہم نیلم۔جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اس وقت 103 فیصد کی پیداواری استعداد پر چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوہالہ پن بجلی منصوبہ کے حوالہ سے بھی تحفظات دور کرنے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، اس سلسلہ میں وزیراعظم کو بریفنگ دی جائے گی اور یہ مسئلہ ہم نے حل کرنا ہے، 18ویں ترمیم کے بعد پانی کا معاملہ اب صوبائی معاملہ ہے، حب ڈیم اس وقت بھرا ہوا ہے لیکن حب ڈیم سے چوری کی شکایات ملی ہیں، اس سلسلہ میں وزیراعلیٰ سندھ نے بھی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، حب ڈیم سے پانی چوری روکنے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، پانی کے معاملہ پر سندھ حکومت کے ساتھ اچھا رابطہ ہے، سیاسی مخالفت اپنی جگہ لیکن سندھ اور کراچی کے عوام کے مسائل کیلئے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ مہمند ڈیم کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابتدائی کام شروع ہو چکا ہے، کنٹریکٹ دےدیا گیا ہے، جلد سنگ بنیاد بھی رکھ دیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ر) ثاقب نثار کا اس حوالہ سے کردار یاد رکھا جائے گا اور اس کا کریڈٹ ہم انہیں دیتے ہیں، ڈیمز کیلئے فنڈز اکٹھے ہو رہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کے وژن میں بھی اسے ترجیح حاصل ہے۔ دریائے کابل کے پانی کے حوالہ سے افغانستان کے ساتھ ورکنگ گروپ کے قیام سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں بھی پیشرفت ہو رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں اضافہ کے حوالہ سے وہ کچھ نہیں کہہ سکتے، جو بھی بجلی استعمال کرے گا اسے قیمت تو ادا کرنا پڑتی ہے، ہم پانی کی بچت کیلئے بھی مہم چلائیں گے، سابق حکومت ملک پر بھاری قرضے چھوڑ کر گئی ہے، اس کے سود کی مد میں بھی ہمیں بڑی رقم ہر سال ادا کرنا پڑے گی، ہم نے مشکل فیصلے کئے ہیں تاہم یہ مشکل وقت عارضی ہے اور اس کے بعد آسانیاں پیدا ہوں گی۔ سندھ طاس کمیشن کے ارکان کے دورہ بھارت کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ یہ بہت اچھا دورہ تھا اور اس میں کمیشن کے ارکان نے بھارت میں مختلف مقامات کا دورہ کیا، ہم جنگ نہیں امن چاہتے ہیں اور دونوں ممالک اپنے عوام کے فائدہ کیلئے بہتر فیصلے کریں گے تو اس کے مثبت نتائج سامنے ہوں گے۔








