پاکستان میری ٹائم میوزیم کراچی میں ”پا کستان میں بحری سیاحت کی ممکنہ ترقی“ کے عنوان سے سیمینار کا اہتمام

اسلام آباد ۔ 4 اپریل (اے پی پی)نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افئیرز کے زیر اہتمام پاکستان میری ٹائم میوزیم کراچی میں ”پا کستان میںبحری سیاحت کی ممکنہ ترقی“ کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا ۔ یہ سیمینار اپنی نوعیت کا پہلا سیمینار تھا جس کا مقصد میری ٹائم اسٹیک ہولڈرز، تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد اور سیاحت کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم …

اسلام آباد ۔ 4 اپریل (اے پی پی)نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افئیرز کے زیر اہتمام پاکستان میری ٹائم میوزیم کراچی میں ”پا کستان میںبحری سیاحت کی ممکنہ ترقی“ کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا ۔ یہ سیمینار اپنی نوعیت کا پہلا سیمینار تھا جس کا مقصد میری ٹائم اسٹیک ہولڈرز، تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد اور سیاحت کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے عوام میں اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنا تھا۔اس موقع پر نیشنل سینٹر فار میری ٹائم پالیسی ریسرچ کے سابق ڈائریکٹر جنرل وائس ایڈمرل (ر) آصف ہمایوں مہمان خصوصی تھے۔ اپنے خطاب میں مہمان خصوصی نے بلیو اکانومی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ میری ٹائم سیکٹر کی ترقی سے پاکستان کا روشن مستقبل وابستہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بحری سیاحت کی ترقی ملکی بلیو اکانومی کے فروغ کی طرف لے کر جاتی ہے۔ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹیٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز وائس ایڈمرل (ر) سید خاور علی شاہ نے اپنے خطاب کے دوران میری سیکٹر کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم اپنی میری ٹائم اکانومی کو اہمیت نہیں دیتے پاکستان ترقی نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے ملکی سطح پر ماہی گیری کے سیکٹر کی تجدید اور ترقی پر بھی زور دیا۔سیمینار میں معروف مقررین نے شرکت کی جن میں چیف ایگزیکٹو افسر جے ایس گلوبل بنک کامران ناصر، آواری انٹرنیشنل ہوٹلز کے کارپوریٹ ڈائریکٹر سیلز عظیم قریشی، سسٹین ایبل ٹوریزم فاﺅنڈیشن کے صدرعطاالرحمٰن، سکل سٹون کے ہیڈ آف کارپوریٹ ایند آئی آر مسٹر کامران، بلیو اکانومی پر تحقیق کرنے والی محقق نغمانہ ظفر، گوادر جم خانہ کے مینجرشاہ میر احسان اللہ اور ماہی گیرایسوسی ایشن کے صدر آصف بھٹی نے پاکستان میں میری ٹائم سیاحت کے مختلف چیلنجز اور مواقع پر روشنی ڈالی۔بحری سیاحت اپنی استعداد اور تنوع کی وجہ سے کسی بھی قوم کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ یہ صنعت نہ صرف اقوام متحدہ کے جاری ترقیاتی منشور بلکہ چیف آف دی نیول اسٹاف کے وژن سے بھی ہم آہنگ ہے ۔موجودہ حالات میں ساحلی علاقوں میں بحری ساحت سے متعلق بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں ہے اور اس حوالے سے افراد کی صلاحیتوں کو ا±جاگر کر نے کے ساتھ ساتھ اس شعبے میں سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔ ان حالات میں اعلٰی حکام اور عوام کے درمیان اس حوالے سے علم وآگہی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ سیمینار بحری سیاحت کے اسٹیک ہولڈر ز کی ضروریات کو سمجھنے اور اس شعبے میں قابل عمل حکمت عملی تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوگا جس کی مدد سے کوسٹل ایریاز کے نوجوانوں کو با اختیار بنانے کے راستے کھلیں گے۔ سیمینار میں میری ٹائم سیکٹر سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات ، تحقیق و تالیف سے وابستہ افراد اور مقامی تھنک ٹینکس سے تعلق رکھنے والے ریسرچرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

Leave a Reply