سندھ میں ایچ آئی وی ایڈز پھیلنے کی وجوہات تلاش کرنے کے لئے بیرون ممالک سے عالمی ماہرین کی ٹیم پاکستان آ رہی ہے، بڑے ہسپتالوں کو مکمل خود مختاری دینے سمیت پرائمری ہیلتھ کئیر کی مضبوطی کیلئے اصلاحاتی ایجنڈا لایا جارہا ہے،صحت کے شعبہ کو سیاست سے پاک کرنا ہے،ظفر مرزا

اسلام آباد ۔ 26 مئی (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ظفر مرزا نے کہا ہے کہ سندھ میں ایچ آئی وی ایڈز پھیلنے کی وجوہات تلاش کرنے کے لئے بیرون ممالک سے عالمی ماہرین کی ٹیم 2 روز میں پاکستان آ رہی ہے،ملک بھر میں قائم بڑے ہسپتالوں کو مکمل خود مختاری دینے سمیت پرائمری ہیلتھ کئیر کی مضبوطی کیلئے اصلاحاتی ایجنڈا لایا جارہا …

اسلام آباد ۔ 26 مئی (اے پی پی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ظفر مرزا نے کہا ہے کہ سندھ میں ایچ آئی وی ایڈز پھیلنے کی وجوہات تلاش کرنے کے لئے بیرون ممالک سے عالمی ماہرین کی ٹیم 2 روز میں پاکستان آ رہی ہے،ملک بھر میں قائم بڑے ہسپتالوں کو مکمل خود مختاری دینے سمیت پرائمری ہیلتھ کئیر کی مضبوطی کیلئے اصلاحاتی ایجنڈا لایا جارہا ہے،صحت کے شعبہ کو سیاست سے پاک کرنا ہے،لاڑکانہ میں ایڈز کے کیس سامنے آنے کے بعد صوبائی حکومت نے اپنے وسائل کے مطابق اقدامات اٹھائے ہیں،ایچ آئی وی ایڈز ،ہیپاٹائیٹس اور ٹی بی کے کنٹرول کیلئے عالمی پروگرام پر انحصار کم اور اپنے وسائل سے اس کا علاج یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں وہ اتوار کو یہاں پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کے وزیر صحت سے مکمل رابطے میں ہوں۔انہوں نے کہا کہ سرنجوں کی ری پیکنگ ہونے کی اطلاعات ملی ہیں اس سے نمٹنے کیلئے اہم اقدامات اٹھائیں گے،سرنجیں بنانے والی کمپنیوں کا اجلاس جلد بلایا جائے گا جبکہ ایمپورٹڈ سرنجوں کو ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے اقدامات اٹھائیں گے ایسے مافیا بھی سامنے آئے ہیںجو ہسپتالوں سے استعمال شدہ سرنجیں اٹھاتے ہیں اور ان کی ری پیکنگ کرتے ہیں ان کے خلاف قانون کو حرکت میں لانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں مریض میں انفیکشن کی روک تھام کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ان بچوں کو انجیکشن کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا ہوئے ہیں۔ابھی تک ایچ آئی وی ایڈز پھیلنے کی وجوہات تک نہیں پہنچ سکے۔بیرون ممالک سے ورلڈ ایکسپرٹ کی ٹیم 2 روز میں پاکستان آ رہی ہے۔چند ہفتوں میں اس مرض کی وجوہات کا پتہ چل جائے گا۔سکریننگ کے لیے 50 ہزار کٹس منگوا رہے ہیں۔بچہ میں ایچ آئی وی ایڈز کی تشخیص پر اسے تمام عمر میڈیسن کھانا پڑتی ہے۔پاکستان میں 1 لاکھ 63 ہزار لوگ ایچ آئی وی ایڈز کے مرض میں مبتلا ہیں۔صرف چند ہزار لوگ رجسٹرڈ ہیں صرف 16 ہزار لوگ مستقل چیک اپ کرواتے ہیں۔ہیپاٹائٹس سی پاکستان میں دنیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ صرف لاڑکانہ میں بڑھتے ایڈز پر بات کریں گے۔25 اپریل سے رتوڈیرو میں ایڈز کی تشخیص ہونا شروع ہو گی۔ہم صوبائی حکومت کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے۔23 مئی کو میں نے خود صوبائی وزیر کے ساتھ لاڑکانہ کا دورہ کیا ،بطور ایک ڈاکٹر کے میں نے تمام صورتحال کا جائزہ لیا۔صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت کے تعاون سے 21ہزار 375 لوگوں کی سیکریننگ کی گئی ، 681 افراد میں ایڈر کی تشحیص ہوئی۔ ان مین سے 537 بچے اس میں شامل ہیں جن کے عمریں 15 سال سے کم ہیں۔اتنے زیادہ بچوں میں ایڈر کا ہونا تشویش ناک ہے۔کوئی ایساعنصر ہے جو اس کا ذمہ دار ہے،استعمال شدہ سرنجز کے دوبارہ استعمال کیا جانے کی خبریں ہیں، ہمارے ہسپتالوں میں انفیکشن کنڑول کا ناقص نظام ہے۔انھوں نے کہاکہ ایڈز پر کی جانے والی کوشیش ناکافی ہیں، عالمی ادارے صحت کی ٹیم دو دن میں کراچی پہنچ رہی ہے۔10 رکنی ٹیم اس کی مکمل تحقیقات کرے گی ۔وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایڈز کے حوالے سے دوستانہ انداز میں اس معاملے کو دیکھنے کی ضرورت ہے اس کیلئے بھی وہی عوامل ہیں جو ہیپاٹائیٹس سی کا باعث بنتے ہیں اس کے پھیلاﺅ کی روک تھام کیلئے آنے والے وقتوں میں بھر پور اقدامات اٹھائیں گے ۔انہوں نے وزیراعظم کے اچانک دوروں کے حوالے سے بتایا کہ ان دوروں کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بڑے ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ،ہم سارے ٹیچنگ ہسپتالوں میں اصلاحات لارہے ہیں تاکہ وہ اپنے فیصلے خود کریں۔وزیراعظم شعبہ صحت کے حوالے سے آئندہ دو ہفتوں میں اہم اعلان کریں گے۔پرائمری ہیلتھ کیئر کو مضبوط کئے بغیر ہمارا نظام نہیں چل سکتا ،اسلام آباد میں ماڈل ہیلتھ کئیر ڈیڑھ سال میں قائم ہوجائے گا ، اس کے بعد بڑے ہسپتالوں میں مریضوں کو ریفر کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ ہیلتھ سیکٹر کو ریگولائز کرنے کی ضرورت ہے اس ضمن میں وفاق کی سطح پر ہیلتھ کمیشن بنایا جارہا ہے جو ان کی مانیٹرنگ کے ساتھ ساتھ ان کیلئے قواعد ضوابط مرتب کرے گا۔انہوں نے کہا کہ جن ادویات کی قیمت میں 75 فیصد سے زائد اضافہ ہوا تھا وہ واپس لانے کیلئے کچھ کمپنیوں نے اقدامات کردیئے ہیں بعض کمپنیوں نے رضاکارانہ یہ پیشکش کی ہے کہ زندگی بچانے والی کم قیمت ادویات دوبارہ بنائیں گے جبکہ اس حوالے سے ان سے جلد ملاقات میں اس کا تعین کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ کے تحت جس کو بھی علاج کی سہولت دی جارہی ہے اس سے باقاعدہ فیڈ بیک بھی لیا جارہا ہے یہ ایک بڑا اقدام ہے اور غریبوں کیلئے بڑا ریلیف ہے ۔انہوں نے کہا کہ عوام کی صحت پر وہ سیاست نہیں کرنا چاہتے ان کی خدمت ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

مزید خبریں

Leave a Reply