اسلام آباد ۔ 25 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان تین کام کریں احتساب‘ احتساب اور احتساب‘ اٹھارہویں ترمیم 1973ءکے آئین کو اپنی اصل شکل میں بحالی اور صوبائی خودمختاری کے لئے تھی تاہم نہ تو 1973ءکا آئین اپنی اصل شکل میں بحال ہوا اور نہ ہی صوبوں کو خودمختاری ملی‘ یہ ترمیم صرف چند خاندانوں …
وفاقی وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث کے دوران اظہارخیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 25 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان تین کام کریں احتساب‘ احتساب اور احتساب‘ اٹھارہویں ترمیم 1973ءکے آئین کو اپنی اصل شکل میں بحالی اور صوبائی خودمختاری کے لئے تھی تاہم نہ تو 1973ءکا آئین اپنی اصل شکل میں بحال ہوا اور نہ ہی صوبوں کو خودمختاری ملی‘ یہ ترمیم صرف چند خاندانوں کے مفاد میں تھی‘ اسی طرح میثاق جمہوریت بھی چند خاندانوں کے لئے تھا‘ اب اگر میثاق معیشت کرنا ہے تو پاکستان کے عوام کے لئے کیا جائے‘ چند خاندانوں کے لئے یہ نہیں ہونا چاہیے‘ سندھ میں اضلاع کی سطح پر بھی ٹیلی میٹری سسٹم رائج کیا جائے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ جب سرمایہ کاری نہ آرہی ہو‘ بجلی کا خسارہ‘ گیس کا خسارہ‘ سرحدوں کی صورتحال خراب‘ بجٹ خسارہ‘ تجارتی خسارہ‘ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ ہو تو بجٹ مشکل ہی ہوگا‘ ایف اے ٹی ایف کی تلوار گردن پر ہو‘ سی پیک عالمی ممالک کو کھٹک رہاہو‘ دہشت گردی کے چیلنج سمیت دیگر مشکلات کے باوجود ہم مشکل بجٹ کے ساتھ آئے ہیں۔








