وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 22 اگست (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ عالمی تنظیم جینو سائیڈ واچ کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی الرٹ جاری کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں صورتحال بہت سنگین ہے، ہمیں اطلاعات ملی ہیں کہ وہاں نوجوان بچوں اور بچیوں کو اٹھایا جارہا ہے، انہیں ٹارچر کیا جارہا ہے اور پھر ان بچیوں کے ساتھ زیادتی …

اسلام آباد ۔ 22 اگست (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ عالمی تنظیم جینو سائیڈ واچ کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی الرٹ جاری کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں صورتحال بہت سنگین ہے، ہمیں اطلاعات ملی ہیں کہ وہاں نوجوان بچوں اور بچیوں کو اٹھایا جارہا ہے، انہیں ٹارچر کیا جارہا ہے اور پھر ان بچیوں کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے، تہمینہ جنجوعہ کو ہیومن رائٹس باڈیز،آرگنائزیشنز، ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل سے رابطہ کرنے اور انہیں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی ہے اور وہ جنیوا پہنچ گئی ہیں، ستمبر میں جنیوا میں ہونے والے ہیومن رائٹس کونسل کے اجلاس میں کونسل کے 45 رکن ممالک اور ان عالمی تنظیموں کے سامنے پاکستان، وزیراعظم عمران خان اور کشمیریوں کا مقدمہ خود پیش کروں گا تاکہ ان نہتے اور مظلوم لوگوںکی بات کی جاسکے اور انہیں نسل کشی اور قتل عام سے بچایا جا سکے۔ عالمی تنظیم جینو سائیڈ واچ کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی الرٹ جاری کرنے پر نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جینو سائیڈ واچ کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی الرٹ جاری کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں صورتحال بہت سنگین ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ کل 4 مملک کے وزراء خارجہ سے ٹیلی فون پر گفتگو میں ان کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی سرکار کہتی ہے کہ ہم نے مقبوضہ کشمیر میں سکول کھول دیئے ہیں لیکن والدین پر یہ خوف طاری ہے کہ بچے سکولوں سے خیریت کے ساتھ گھر واپس لوٹیں گے یا نہیں، وہاں موبائل سروس نہیں ہے وہ ان کی خیریت کے بارے میں دریافت نہیں کر سکتے، جو خاندان بھچڑے ہوئے ہیں اور ان کے بچے باہر نوکریاں کر رہے ہیں انہیں یہ نہیں معلوم کہ ان کے والدین کے ساتھ کیا ہورہا ہے ، بزرگ جنہیں جان بچانے والی ادویات چاہیئں وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں، بچے بھوک سے بلک رہے ہیں لوگوں کو کھانے کی اشیاء دستیاب نہیں ہیں، مقبوضہ وادی میں 17روز سے کرفیو نافذ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنیو سائیڈ واچ انتہائی ہنگامی حالات میں الرٹ جاری کرتی ہے، جذباتی فیصلے نہیں کرتی، وہ کوئی الرٹ جاری کرنے سے قبل حالات کا تفصیلی جائزہ لیتی ہے اور اس عمل کے دس مراحل ہیں۔الرٹ جاری کرنے سے قبل ایک ایک مرحلے کا جائزہ لیا جاتا ہے تب جا کر جینو سائیڈ الرٹ جاری ہوتا ہے۔ جینو سائیڈ الرٹ جاری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

مزید خبریں