اسلام آباد ۔ 23 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ کشمیریوں نے ہمیشہ اپنی جنگ خود لڑی ہے اور پاکستان ہمیشہ اس جنگ میں کشمیر کے ساتھ رہا ہے۔ اس وقت 2 ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی ہیں، ہم امن کے لیے کھڑے ہیں، ہم امن پسند لوگ ہیں لیکن امن ذلت کے ساتھ …
وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین کی ٹی وی پروگرام میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 23 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ کشمیریوں نے ہمیشہ اپنی جنگ خود لڑی ہے اور پاکستان ہمیشہ اس جنگ میں کشمیر کے ساتھ رہا ہے۔ اس وقت 2 ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی ہیں، ہم امن کے لیے کھڑے ہیں، ہم امن پسند لوگ ہیں لیکن امن ذلت کے ساتھ مسلط نہیں ہوتا بلکہ برابری کے ساتھ ہوتا ہے اور بھارت اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جتنا جلدی یہ بات سمجھ جائیں اتنا ہی اس خطے کے لیے اچھا ہے، کشمیر پر ثالثی کے حوالے سے امریکہ کا کردار مثبت ہے، مقبوضہ کشمیر پر جو لوگ بھارتی حکومت کے بیانیہکی حمایت کرتے تھے وہ بھی اس کے خلاف ہیں۔ نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے چوہدری فواد حسین سے سوال کیا گیاکہ مقبوضہ کشمیر میں 23اگست کو ہونے والے بھرپور احتجاج اور پاکستان کی کوششوں سے کیا عالمی ضمیر جاگا ہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ میں مقبوضہ کشمیر کے تمام لوگوں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ وہ بڑی تعداد میں باہر نکلیں، ان پر جو جبری حکومت،فاشزم مسلط، ظلم اور قید و بند کا جو دور مسلط کیا گیا ہے اسے مسترد کریں، کشمیری بڑی تعداد میں اپنی آزادی کے حق کے لیے باہر نکلیں اپنی جنگیں خود لڑنی پڑتی ہیں اور کشمیریوں نے ہمیشہ اپنی جنگ خود لڑی ہے اور پاکستان ہمیشہ اس جنگ میں ان کے ساتھ رہا ہے۔ اپنی جدوجہد کی قیادت ہمیشہ خودکی ہے اب بھی کشمیری ہی یہ قیادت کریں گے اور آج لاکھوں کشمیری عوام باہر نکل کر بھارت اور دنیا کو بتا دیں گے کہ وہ ان کے اقدامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان سے سوال کیا گیا کہ وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ اس صورتحال میں بھارت سے مذاکرات نہیں ہو سکتے اگر مذاکرات نہیں تو پھر حکموت کس طرح کشمیریوں کی مدد کرے گی اور کس طرح انسانی المیہ ہونے سے روکا جائے جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انسانی المیہ تو بن چکا ہے، انسانی المیہ تو پہلے ہی ہے کہ آپ ہزاروں انسانوں کو پابند سلاسل کریں، صرف اپنا جمہوری حق مانگنے کے لیے جب آپ ہزاروں لوگوں کو روزگار سے محروم کر دیں، بچیوں اور نوجوان لڑکیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جائے، جہاں نوجوان لڑکوں کو جان سے جانا پڑے، بچوں کو پیلٹ گنز کا سامنا کرنا پڑے تو پھر انسانی المیہ تو بن چکا ہے، سوال یہ ہے کہ اس سے قبل ہم نے بھارت سے مذاکرات کے لیے کیا کیا نہیں کیا، وزیراعظم عمران خان نے وزارت اعظمی کا حلف نہیں لیا تھا تو انہوں نے ایک روز قبل کہا کہ” آپ ایک قدم بڑھائیں، ہم دو قدم بڑھائیں گے”، جب کرتار پور پر کام کا افتتاح کیا تو سب کو معلوم ہے کہ وزیراعظم نے کیا باتیں کی تھیں لیکن نریندر مودی جیسا فاشسٹ جو بھارت میں برسراقتدار آیا ہے اس نے برصغیر کو ایک خطرناک موڑ پر لا کر کھڑا کر دیا ہے اور اس صورتحال میں معاملہ کہیں بھی جاسکتا ہے، میرا خیال ہے کہ اس وقت دنیا کو یقیناً فکرمند ہونا چاہیے اس وقت 2 ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی ہیں، ہم امن کے لیے کھڑے ہیں، ہم امن کے لوگ ہیں لیکن امن ذلت کے ساتھ مسلط نہیں ہوتا بلکہ برابری کے ساتھ ہوتا ہے اور بھارت جتنی جلدی یہ بات سمجھ جائے، نریندر مودی جتنا جلدی یہ بات سمجھ جائے اتنا ہی اس خطے کے لیے اچھا ہے








