ریاض ۔ 7 ستمبر (اے پی پی) سعودی پبلک پراسیکیوشن نے انتباہ کیا ہے کہ کسی کی سفارش پر کام کرنا یا ذمہ داری سے باز رہنا جرم ہے۔ اس کی سزا 3برس قید اور ایک لاکھ ریال جرمانہ ہے۔سفارش پر کام کرنا نہ کرنا رشوت دینے اور لینے کا جرم شمار کیا جائے گا۔ پبلک پراسیکیوشن نے ٹویٹر پر بیان میں کہا کہ کسی کی سفارش یا ثالثی یا …
سعودی عرب میں سفارش کی سزا 3 برس قید،ایک لاکھ ریال جرمانہ

مزید خبریں
ریاض ۔ 7 ستمبر (اے پی پی) سعودی پبلک پراسیکیوشن نے انتباہ کیا ہے کہ کسی کی سفارش پر کام کرنا یا ذمہ داری سے باز رہنا جرم ہے۔ اس کی سزا 3برس قید اور ایک لاکھ ریال جرمانہ ہے۔سفارش پر کام کرنا نہ کرنا رشوت دینے اور لینے کا جرم شمار کیا جائے گا۔ پبلک پراسیکیوشن نے ٹویٹر پر بیان میں کہا کہ کسی کی سفارش یا ثالثی یا درخواست پر محکمہ جاتی ذمہ داری میں کسی بھی قسم کا خلل خلاف قانون ہے۔یہ انصاف اور برابری کے اصول کے منافی ہے۔ پبلک پراسیکیویشن کے مطابق جو شخص بھی سفارش قبول کرے گا اسے 3بر س تک قید اور ایک لاکھ ریال تک جرمانے یا دونوں میں سے کوئی ایک سزا دی جائے گی۔








