پاکستان نے گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران جس طرح بھارت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے، اس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں، سید عبداللہ گیلانی

اسلام آباد ۔ 18 ستمبر (اے پی پی) کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے کنوینر سید عبداللہ گیلانی نے کہا ہے کہ ہمیں پاکستان کے علاوہ اسلامی ممالک سے کوئی توقعات نہیں، پاکستان نے گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران جس طرح بھارت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے اس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں، بھارت کشمیر پر دو طرفہ مذاکرات کی بات کرکے دنیا …

اسلام آباد ۔ 18 ستمبر (اے پی پی) کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے کنوینر سید عبداللہ گیلانی نے کہا ہے کہ ہمیں پاکستان کے علاوہ اسلامی ممالک سے کوئی توقعات نہیں، پاکستان نے گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران جس طرح بھارت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے اس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں، بھارت کشمیر پر دو طرفہ مذاکرات کی بات کرکے دنیا کو گمراہ کرتا ہے، ہمیں بھارت پر دبائو مزید بڑھانا ہوگا، کشمیر میں بھارتی ہمنوا بھی اب یہ کہنے پرمجبور ہیں کہ ان کے بھارت نوازی کے فیصلے غلط تھے تاہم سہولت کار ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کے ہاتھ کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ بدھ کو قومی پارلیمانی کانفرنس برائے کشمیر سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یہ کانفرنس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل پوری دنیا کے پیغام ہے کہ کس طرح پاکستانی عوام جموں کشمیر کے عوام کی جدوجہد آزادی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں، کشمیری قوم 27 اکتوبر 1947ء سے ہی انسانی المیہ کا شکار چلی آرہی ہے تاہم اس وقت یہ انسانی المیہ ایک بد ترین شکل میں موجود ہے۔ کشمیر اس وقت 80 لاکھ کشمیریوں کے لئے اجتماعی قبر سے کم نہیں۔ ہمیں اس قرب کا علم نہیں جس سے ہماری قوم اس وقت گزر رہی ہے۔ 30 سے 40 ہزار نوجوانوں کو ریاست سے اغوا کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کے مسئلے کا واحد حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری ہے ۔ کشمیری اس کے علاوہ کسی حل پر راضی نہیں اور نہ ہی کوئی اور حل اس سے زیادہ پائیدار ہو سکتاہے۔ ہمیں اسی حل کی طرف سے جانا ہے۔ اس کے راستے میں رکاوٹ بھارتی ہٹ دھرمی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر میں جب بھی کشیدگی یا انسانی بحران پیدا ہوا تو عالمی برادری نے اس پر آواز اٹھائی تاہم بھارت چالاکی سے اس صورتحال کو معمول پرلا کر پھر دوبارہ ایسی صورتحال پیدا کردیتا ہے۔ اب یہ سلسلہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس بات ہماری توجہ محاصرہ کرانے پر نہیں مستقل حل پر مرکوز ہونی چاہیے ۔ یہ نہ ہوکہ محاصرہ ختم کرکے دنیا کو مطمئن کرے اور پھر یہ کھیل کھیلے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں واحد ملک ہے جو ہماری پشت پرکھڑا ہے۔ 5 اگست کے بعد صورتحال تبدیل ہوئی ہے۔