نیویارک ۔ 24 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان وسیع البنیاد شراکت کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں رہنمائوں کی ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہوئی ۔ دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے صدر ٹرمپ کی طرف سے جموں کشمیر کے مسئلے …
وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کی جموں کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی مسلسل پیشکش کو سراہا ہے، دفترخارجہ

مزید خبریں
نیویارک ۔ 24 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان وسیع البنیاد شراکت کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں رہنمائوں کی ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہوئی ۔ دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے صدر ٹرمپ کی طرف سے جموں کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی مسلسل پیشکش کو سراہا۔ مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت کی طرف سے لاک ڈائون کو سنگین انسانی بحران اور علاقائی امن کے لئے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں فوری طور پر کرفیو اور دیگر پابندیاں اٹھانے اور جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن اور مسئلہ کشمیر کے حل کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ دونوں رہنمائوں نے علاقے میں امن اور سلامتی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور پرامن اور مستحکم افغانستان کے لئے اپنی مشترکہ دلچسپی کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے افغان امن اور مصالحاتی عمل جلد شروع ہونے کی امید ظاہر کی اور کہا کہ افغان تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ جولائی 2019ء میں وزیر اعظم کے واشنگٹن کے کامیاب دورے کے حوالے سے دونوں رہنمائوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے باہمی طورپر ترجیحی شعبوں میں پیشرفت تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اپنی پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے امریکی صدر پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں 50 دن سے جاری کرفیو ختم کرائے جہاں پر عوام محصور اور بنیادی آزادیوں سے محروم ہیں اور وہ عشروں پرانے اس تنازعہ کے حل کے لئے مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور ملک ہونے کے ناطے امریکا کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ کشرمیں سنگین بحران کے خاتمہ میں مدد دینے کا فریضہ انجام دے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ یقیناً اگر دونوں حکومتیں کہیں تو پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی میں مدد دے سکتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ وہ پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں اور کشمیر میں ہر کسی کے ساتھ ایک جیسے سلوک کے خواہاں ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات ہیں ۔اگر وہ دونوں کہیں تو وہ ثالثی کے لئے تیارہیں اور وہ ایک اچھے ثالث ثابت ہوں گے۔ افغانستان کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ افغان مسئلہ کے سیاسی حل کے لئے طالبان کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کریںکیونکہ اس مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ افغانستان میں استحکام کا مطلب پاکستان میں استحکام ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ وزیر اعظم عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں اور انہیں اپنا اچھا دوست قرار دیا۔ صدر ٹرمپ نے علاقائی امن اور ترقی کے لئے وزیر اعظم عمران خان کی سیاسی بصیرت اور قائدانہ کردار کو سراہا۔ ہوسٹن میں عوامی اجتماع سے بھارتی وزیر اعظم کے خطاب کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ پاکستان اور وزیر اعظم عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں کہ وہ ترقی کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی ملاقات میں انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارتی حجم بڑھانے پر بھی اتفاق کیا جو اس وقت بہت کم ہے۔







