وزیراعظم عمران خان کا موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق نیویارک میں سربراہ اجلاس سے خطاب

نیویارک ۔ 24 ستمبر (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے موسمیاتی تبدیلیوں اور اس کے وسیع پیمانے پر اثرات سے نمٹنے کیلئے جرا¿تمندانہ قیادت پر زور دیا ہے، وزیراعظم نے موسمیاتی تبدیلی کو اس وقت کا ایک اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی ملک اس چیلنج سے اکیلا نہیں نمٹ سکتا بلکہ اس کیلئے شراکت داری ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ کی …

نیویارک ۔ 24 ستمبر (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے موسمیاتی تبدیلیوں اور اس کے وسیع پیمانے پر اثرات سے نمٹنے کیلئے جرا¿تمندانہ قیادت پر زور دیا ہے، وزیراعظم نے موسمیاتی تبدیلی کو اس وقت کا ایک اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی ملک اس چیلنج سے اکیلا نہیں نمٹ سکتا بلکہ اس کیلئے شراکت داری ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس کے موقع پر موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کاربن کے اخراج کے حوالہ سے پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے تاہم اس پر موسمیاتی تبدیلی کے غیر متناسب منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی کوششوں کو اجاگر کیا، اس تناظر میں وزیراعظم نے خیبرپختونخوا میں بلین ٹری سونامی منصوبہ کی جانب توجہ دلائی جو کہ عالمی ”بون چیلنج“ کے تحت کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کی جانب کسی بھی پہلے ملک کا امتیازی قدم ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کے ایکو سسٹم ریسٹوریشن انیشیٹیو کا حوالہ دیا جس کی بنیاد بلین ٹری منصوبہ پر رکھی گئی ہے۔ اس منصوبہ کے تحت حکومت نے آئندہ چار سال کے دوران ملک میں 10 ارب درخت لگانے کا منصوبہ بنایا ہے جس سے ملک میں وسیع پیمانے پر ایکو سسٹم سے متعلق اقدامات سے ملک میں سبز انقلاب کے دور کا آغاز ہو گا۔ وزیراعظم نے عالمی وعدوں پر عملدرآمد کے تناظر میں عالمی رہنماﺅں کے سامنے مالیات کی فراہمی، سہولیات تک رسائی اور ٹیکنالوجی کی فراہمی پر مبنی تین نکاتی ایجنڈا پیش کیا۔

مزید خبریں