اسلام آباد ۔ 25 ستمبر (اے پی پی) ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کی بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے، رواں مالی سال پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ کی شرح 2.8 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔ یہ بات ایشیائی ترقیاتی بینک نے ایشیئن ڈویلپمنٹ آﺅٹ لک کے نام سے اپنی ایک رپورٹ میں کہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالیاتی اور بیرونی …
پاکستان کی معیشت کی بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے، رواں مالی سال جی ڈی پی میں اضافہ کی شرح 2.8 فیصد تک رہنے کی توقع ہے، ایشیائی ترقیاتی بینک

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 25 ستمبر (اے پی پی) ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کی بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے، رواں مالی سال پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ کی شرح 2.8 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔ یہ بات ایشیائی ترقیاتی بینک نے ایشیئن ڈویلپمنٹ آﺅٹ لک کے نام سے اپنی ایک رپورٹ میں کہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالیاتی اور بیرونی عدم توازن کے خاتمہ کیلئے پاکستان کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کے اچھے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجہ میں مالی سال 2020ءکے دوران پاکستان میں جی ڈی پی میں اضافہ کی شرح 2.8 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔ رپورٹ میں زرعی شعبہ کے فروغ کیلئے پاکستان کے اقدامات کو سراہا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے طلب میں کمی ہو سکتی ہے جس سے مینوفیکچرنگ کے شعبہ پر بھی اثرات مرتب ہوں گے تاہم زرعی شعبہ میں اچھی پیشرفت کا امکان ہے، حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں زرعی شعبہ کے فروغ کیلئے پیکیج دیا ہے جس کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال کے پہلے ماہ میں تجارتی خسارہ میں کمی ہوئی ہے، جولائی 2018ءمیں تجارتی خسارہ کا حجم 3.4 ارب ڈالر تھا، رواں سال جولائی میں پاکستان کے تجارتی خسارہ کا حجم 1.8 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ تجارتی خسارہ میں کمی کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر کے حجم میں اضافہ متوقع ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس پیشرفت کی وجہ سے مالی سال 2019-20ءکے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ جی ڈی پی کے 2.8 فیصد کی سطح پر آ جائے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کے حجم میں اضافہ کا امکان ہے، آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈز سہولت پروگرام کے نتیجہ میں معیشت استحکام کی جانب جا رہی ہے، اس پروگرام کے نتیجہ میں دیگر کثیر الجہتی اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کو پاکستان میں اضافی سرمایہ کاری کو مہمیز ملے گی۔







