وزیراعظم عمران خان کا جموں و کشمیر سے متعلق او آئی سی رابطہ گروپ کے سربراہان کے وفد کے اعزاز میں عشائیہ سے خطاب

نیویارک۔ 25 ستمبر (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مودی انتظامیہ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کر رہی ہے، مسلسل کرفیو سے کشمیر کے مسلمانوں کی نسل کشی کا خدشہ ہے، تمام مسلمان ملکوں کو کشمیریوں کیساتھ یکجہتی دکھانی ہو گی۔ گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر جموں و کشمیر سے متعلق او آئی سی رابطہ گروپ کے سربراہان کے وفد …

نیویارک۔ 25 ستمبر (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مودی انتظامیہ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کر رہی ہے، مسلسل کرفیو سے کشمیر کے مسلمانوں کی نسل کشی کا خدشہ ہے، تمام مسلمان ملکوں کو کشمیریوں کیساتھ یکجہتی دکھانی ہو گی۔ گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر جموں و کشمیر سے متعلق او آئی سی رابطہ گروپ کے سربراہان کے وفد کے اعزاز میں دیئے گئے عشایئے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے او آئی سی کے رکن ملکوں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی المیے سے بچنے کیلئے وہاں کی صورتحال پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ پچاس روز سے مسلسل جاری کرفیو کے باعث کشمیر کے مسلمانوں کی نسل کشی کا خدشہ ہے۔ تقریب میں سعودی عرب، ترکی، نائیجر اور آذربائیجان کے وزراءخارجہ نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے یہ لازم ہو گیا ہے کہ وہ 8 ملین کشمیریوں کیلئے اٹھ کھڑے ہوں جو انسانی حقوق سے انکار کی صورت میں انتہائی مخدوش صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ نو لاکھ بھارتی سیکورٹی فورسز نے کشمیر کے مسلمانوں کو محصور کر رکھا ہے اور مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی بڑی انسانی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دنیا تو اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح استعمال کرتی رہی ہے لیکن جب جہاں مسلمانوں کو انسانی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے تو وہاں خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے نمائندوں کو مدعو کرنے کا مقصد مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لانا تھا۔انہوں نے کہا کہ مسلمان ممالک اگلے چند دنوں میں سٹریٹجی مرتب کریں گے جو جنرل اسمبلی کے سامنے پیش کی جائیگی۔عمران خان نے بھارتی وزیر اعظم مودی کو ’ریاستی دہشت گردی کا معمار‘ قرار دیا جو دنیا کی بڑی جمہوریت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔عمران خان نے سوال اٹھایاکہ کون سی جمہوریت شہریوں پر ایسے مظالم کی اجازت دیتی ہے۔

مزید خبریں