وزیراعظم عمران خان کا نفرت انگیز بیانیہ سے نمٹنے کے حوالہ سے کانفرنس سے خطاب

نیویارک ۔25 ستمبر (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے نفرت انگیز تقاریر، اسلام فوبیا کے خلاف مو¿ثر اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے ان کی وجوہات کا حل نکالنا ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پاکستان اور ترکی کے زیراہتمام نفرت انگیز بیانیہ سے نمٹنے کے حوالہ سے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا …

نیویارک ۔25 ستمبر (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے نفرت انگیز تقاریر، اسلام فوبیا کے خلاف مو¿ثر اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے ان کی وجوہات کا حل نکالنا ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پاکستان اور ترکی کے زیراہتمام نفرت انگیز بیانیہ سے نمٹنے کے حوالہ سے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ امتیازی سلوک، مذہب اور عقیدت پر مبنی تشدد کے واقعات بڑھ رہے ہیں، مذہب کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو اسلام سے متعلق مسلمانوں کی حساسیت اور حضرت محمد کی تعلیمات کو سمجھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی طبقہ کی محرومی شدت پسندی کو جنم دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کی کمیونٹیز کے درمیان عظیم مفاہمت اور برداشت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کو نفرت انگیز تقاریر کا مقابلہ کرنے کیلئے بامقصد مباحثہ کیلئے اہم پلیٹ فارم فراہم کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کو مسلمانوں کے ساتھ منسلک کر دیا گیا، بدقسمتی سے مغربی ملکوں کے رہنماﺅں نے دہشت گردی کو اسلام سے جوڑا، بدقسمتی سے انتہاءپسندی اور خود کش حملوں کو بھی اسلام سے جوڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون سے پہلے 75 فیصد خودکش حملے تامل ٹائیگر کرتے تھے جو ہندو تھے، کسی نے بھی ہندو مذہب کو دہشت گردی سے نہیں جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے جاپان کے فوجیوں نے بھی دوسری جنگ عظیم میں خود کش حملے کئے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مسلمان ایک ہی اسلام پر یقین رکھتے ہیں جن کی تعلیمات رسول پاک نے دیں۔ انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ مسجد میں مسلمانوں کو قتل کیا گیا لیکن اس کا مذہب سے تعلق نہیں جوڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں نسل پسند، انتہاءپسند اقتدار میں آ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ مسلمان پیغمبر اسلام حضرت محمد سے کس قدر عقیدت رکھتے ہیں، مسلمان رہنما مغربی معاشروں پر واضح نہیں کر سکے کہ توہین رسالتﷺ سے ہمیں کتنا دکھ ہوتا ہے، رسول پاک کی شان میں گستاخی سے ہر مسلمان کا دل بے انتہاءمجروح ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب میں ہولوکاسٹ پر بات نہیں کی جاتی کیونکہ اس سے یہودیوں کی دل آزاری ہوتی ہے، ہمارے پیغمبر کی شان میں گستاخی سے مسلمانوں کی شدید دل آزاری ہوتی ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی اور مذہبی آزادی کے موجودہ حقوق کے درمیان توازن پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں مسلمان نفرت انگیز تقاریر سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، نفرت انگیز تقاریر انسانیت کے خلاف بدترین جرائم کی وجہ بنتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کو گوشت کھانے پر سرعام تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کو بھارت نے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے، ہمیں مقبوضہ کشمیر میں خونریزی کا خدشہ ہے۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان کے زلزلہ متاثرہ علاقوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔

مزید خبریں