میرپور ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) آزاد جموں و کشمیر کے صدر ، سردار مسعود خان نے او آئی سی کی قیادت سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کو کشمیری عوام کی آواز پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ پوری دنیا کے لئے ایک بڑے بحران کو روک سکے۔ نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس کے موقع پرکشمیر …
آزاد جموں و کشمیر کے صدر کا اقوام متحدہ سے انسانیت کو بچانے کیلئے کشمیر کو بچانے کا مطالبہ

مزید خبریں
میرپور ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) آزاد جموں و کشمیر کے صدر ، سردار مسعود خان نے او آئی سی کی قیادت سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کو کشمیری عوام کی آواز پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ پوری دنیا کے لئے ایک بڑے بحران کو روک سکے۔ نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس کے موقع پرکشمیر بارے او آئی سی رابطہ گروپ کے اجلاس میں پڑھے گئے ایک بیان میں، انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ ہندوستان کے اس جارحانہ اندازسے نجات دلائے جس سے امن اور خطہ کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ آزاد جموں وکشمیر کے صدارتی سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق صدر آزاد کشمیر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کی خواہشات اورامنگوںکے عین مطابق قراردادوںکی روشنی میں مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل تلاش کریں۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ممکنہ تباہ کن جنگ سے بچنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو متنازعہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ انہوں نے زیر قبضہ علاقے میں کرفیو اور مواصلات کی راہ میں رکاوٹوں کے خاتمے ، شہری آزادیوں اور بنیادی آزادیوں کی بحالی ، اور سیاسی قیدیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی رہائی کا واضح مطالبہ کیا ہے۔آزاد جموں و کشمیر کے صدر نے کہا کہ کرفیو اور ٹیلی مواصلات بلیک آؤٹ کے مسلسل 52 ویں روز بھی بندوق بردار فوجی ویران سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں اورگھروں میں محصور لوگ کھانے ، پانی اور ادویات سے محروم ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی کارروائیوں کے خلاف پرامن احتجاج کو براہ راست گولہ بارود اور پیلٹ فائر شاٹ گنوں سے روکاجارہا ہے انہوں نے مزید کہا کہ ہزاروں کشمیری قانون سازوں ، سیاسی کارکنوں ، تاجروں ، وکلائ، طلباء اور اساتذہ کو حراست میں لیا گیا ہے اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زیر حراست افراد کو واٹر بورڈنگ ، بجلی کے جھٹکے، کیبلز اور سلاخوں سے مارا پیٹاجارہا ہے ، اور حراست میں لیے گئے افراد میں سے زیادہ ترکو بھارت کی سب سے بدنام جیلوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔آدھی رات کے چھاپوں میں ، ہندوستانی فوجی گھروں میں گھس جاتے ہیں ، بوڑھوں کو لات مارتے ہیں اور ان کی توہین کرتے ہیں اور خواتین کو عصمت دری اور چھیڑ چھاڑ کی دھمکیاں دیتے ہیں غرض یہ کہ موجودہ صورتحال اس خطے میں انسانی حقوق اور انسانی بحران کا باعث بنی ہے۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کی 5 اگست کی یکطرفہ اور جارحانہ کارروائی ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی انسانیت سوز قانون کی خلاف ورزی ہے۔







