وزیر اعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کی زیر صدارت ریچارج پاکستان کے حوالے سے اجلاس

اسلام آباد ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) وزیر اعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ زیر زمین پانی کا انحطاط سابقہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔موجودہ حکومت جہاں ملک کو درپیش دوسرے مسائل سے نمٹنے کیلئے سرگرم ہے وہاں زیر زمین پانی کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے لائحہ عمل بھی رکھتی ہے۔ ریچارج پاکستان کے نام سے زیر زمین پانی کے …

اسلام آباد ۔ 26 ستمبر (اے پی پی) وزیر اعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ زیر زمین پانی کا انحطاط سابقہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔موجودہ حکومت جہاں ملک کو درپیش دوسرے مسائل سے نمٹنے کیلئے سرگرم ہے وہاں زیر زمین پانی کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے لائحہ عمل بھی رکھتی ہے۔ ریچارج پاکستان کے نام سے زیر زمین پانی کے ذخائر کو بہتر بنانے کیلئے منصوبہ کلین گرین پاکستان کی چھتری تلے چلنے والے پانچ منصوبوں میں سے ایک ہے۔مذکورہ منصوبہ کے تحت شراکت داروں کی مدد سے سیلابی اور بارانی پانی کو زیر زمین چشموں کو بھرنے کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ ہماری حکومت دنیا کے چوتھے بڑے میٹھے پانی کے زیر زمین ذخیرے کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریچارج پاکستان کے حوالے سے ہونے والے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ پاکستان کونسل فار ریسرچ اینڈ واٹر ریچارج کے سائنسدانوں نے وزیر اعظم کے مشیر کو اس ضمن میں ایک پریزنٹیشن دی۔ مذکورہ تنظیم کے نمائندوں نے ان کو بتایا کہ پانی پر تحقیق کرنے کیلئے انہوں نے پورے پاکستان میں سات ریجنل جبکہ اٹھارہ سب ریجنل دفاتر بنارکھے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پانی پر تحقیق کرتے ہوئے وہ پاکستان واٹر وژن 2025، اقوام متحدہ کے سسٹینیبل ڈویلپمنٹ گول نمبر 6،نیشنل واٹر پالیسی 2018 اور نیشنل واٹر ریسرچ ایجنڈا 2016-25 کو مد نظر رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کی زیر زمین سے پمپ کیا جانے والا 93% پانی زرعی مقاصد کیلئے استعمال ہوتا ہے جبکہ پینے کے کل پانی کا 90% جبکہ 100% صنعتی استعمال کا پانی زیر زمین ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے۔

مزید خبریں