اسلام آباد ۔ 26 ستمبر (اے پی پی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کو باب نمبر چھ کے اقدامات اٹھاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقوام متحدہ کی 11 قراردادوں پر عملدرآمد کروانا چاہیے، یہ مسئلہ دو ایٹمی قوتوں کے مابین اشتعال انگیزی کا سبب بنا ہوا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے چوہترویں اجلاس کے …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا یو این گروپ آف فرینڈز برائے مصالحت کے وزارتی سطح کے دسویں اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 26 ستمبر (اے پی پی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کو باب نمبر چھ کے اقدامات اٹھاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقوام متحدہ کی 11 قراردادوں پر عملدرآمد کروانا چاہیے، یہ مسئلہ دو ایٹمی قوتوں کے مابین اشتعال انگیزی کا سبب بنا ہوا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے چوہترویں اجلاس کے موقع پر یو این گروپ آف فرینڈز برائے مصالحت کے دسویں وزارتی سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا موضوع ’امن اور مصالحتی کاوشوں کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال – یو این گروپ آف فرینڈز برائے مصالحت کا دسواں اجلاس اور آئندہ کا لائحہ عمل‘ تھا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ سب سے پہلے مجھے اپنے ان شریک ہم منصبوں کا شکریہ ادا کرنا ہے جنہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چوہترویں اجلاس کے موقع پر اس دسویں وزارتی اجلاس کا اہتمام اور میزبانی کا شرف حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس گروپ نے اپنے معرض وجود میں آنے کے بعد تنازعات کو ثالثی اور مصالحت کے ذریعے حل کروانے کے حوالے سے گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں اور یہی چیز اقوام متحدہ کے چارٹر کا بنیادی فلسفہ ہے، ہم اس گروپ کے نئے ممبر ہونے کی حیثیت سے اس کار خیر میں اپنا کردار ادا کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس دور میں کہ جب ٹیکنالوجی ہماری روزمرہ زندگی کا لازم و ملزوم حصہ بن چکی ہے، تنازعات کے حل کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال منطقی اور بروقت ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ جب بھی تنازعات کے حل کیلئے ٹیکنالوجی ٹولز کو بروئے کار لانا مقصود ہو تو ہمیں سب سے پہلے اپنے متعلقین کی استعداد، ٹیکنالوجی سے متعلقہ فہم کو ضرور مد نظر رکھنا ہو گا، بہترین نتائج کے حصول کیلئے ہمیں، حالات اور وقت کو مد نظر رکھتے ہوئے موزوں ترین ٹیکنالوجی کا انتخاب کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات کے حل کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال ثالثی کے روایتی طریقہ کار کے معاون کے طور پر کیا جانا چاہیے نہ کہ متبادل کے طور پر کیا جانا چاہیے۔








