چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی پرتگال کے سفیر سے ملاقات میں گفتگو

اسلام آباد ۔ 27 ستمبر (اے پی پی) چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ کشمیر میں پچھلے 53 دن سے کرفیو نافذ ہے، مقبوضہ وادی کو اوپن جیل بنا دیا گیا ہے، کرفیو کے باعث انسانی بحران کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے، دنیا اسے ایک انسانی مسئلہ سمجھ کر اپنا کر دار ادا کرے، مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ظلم اور جبر کا نشانہ بنایا جا …

اسلام آباد ۔ 27 ستمبر (اے پی پی) چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ کشمیر میں پچھلے 53 دن سے کرفیو نافذ ہے، مقبوضہ وادی کو اوپن جیل بنا دیا گیا ہے، کرفیو کے باعث انسانی بحران کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے، دنیا اسے ایک انسانی مسئلہ سمجھ کر اپنا کر دار ادا کرے، مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ظلم اور جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، پرتگال مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و جبر روکوانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو پرتگال کے سفیر سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں علاقائی و دو طرفہ تعلقات اور اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے بارے میں سفیر کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں پچھلے 53دن سے کرفیو نافذ ہے۔ مقبوضہ وادی کو اوپن جیل بنا دیا گیا ہے۔ کرفیو کے باعث انسانی بحران کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔دنیا اسے ایک انسانی مسئلہ سمجھ کر اپنا کر دار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ظلم اور جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پرتگال مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و جبر روکوانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور پرتگال کے آپس میں بہترین تاریخی مراسم ہیں۔ پارلیمانی سفارتکاری اور تعاون کے ذریعے عوامی سطح پر روابط کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ بین الااقوامی پارلیمنٹرین کانگرس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے پرتگال کے اراکین پارلیمنٹ بھی اس فورم کا حصہ بن سکتے ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ادارہ جاتی کوششوں کے ساتھ ساتھ اراکین پارلیمنٹ کو انفرادی طور پر اس فورم کے ذریعے اہم مسائل پر مل کر تبادلہ خیال کا موقع ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ گوادر عالمی منڈیوں تک رسائی کیلئے اہم بندرگاہ ہے۔ خطے سے رابطہ کاری، تجارتی نقل و حمل کو فروغ ملے گا۔ پرتگال کے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے بھر پور استفادہ کر سکتے ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے پرتگال کے فٹبال کے کھیل کے فروغ کیلئے کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور پرتگا ل کے مابین فٹبال کے شعبے میں دو طرفہ تعاون انتہائی مثبت اقدام ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمار ی خواہش ہے کہ فٹبال کے کھیل کے مختلف شعبوں میں پرتگال کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے۔ 2020ء کو پاکستان میں فٹبال کا سال قرار دیا گیا ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان بین الاقوامی سطح پر تعاون مثالی ہے۔