وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس سے خطاب

نیویارک ۔ 27 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مغربی ممالک میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے، کوئی مذہب دہشت گردی اور انتہاءپسندی کا درس نہیں دیتا، دنیا میں اسلام کے متعلق غلط تاثر پیدا کیا گیا، ہمارے نبی ہمارے دلوں میں رہتے ہیں، جب کوئی توہین کرتا ہے تو ہمیں دلی دکھ ہوتا ہے، مغرب کو یہ بات سمجھنے …

نیویارک ۔ 27 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مغربی ممالک میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے، کوئی مذہب دہشت گردی اور انتہاءپسندی کا درس نہیں دیتا، دنیا میں اسلام کے متعلق غلط تاثر پیدا کیا گیا، ہمارے نبی ہمارے دلوں میں رہتے ہیں، جب کوئی توہین کرتا ہے تو ہمیں دلی دکھ ہوتا ہے، مغرب کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو یہاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ نائن الیون کے بعد دنیا میں اسلامو فوبیا بہت تیزی سے پھیلایا گیا، اس سے تفریق پیدا ہوئی اور مسلمان خاتون کے حجاب تک پہننے کو مسئلہ بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا سے دکھ ہوتا ہے، دنیا کا کوئی مذہب دہشت گردی اور انتہاءپسندی کا درس نہیں دیتا، اسلام کے متعلق دنیا میں غلط تاثر پیدا کیا گیا، نائن الیون کے بعد کچھ مغربی رہنماﺅں نے اسلام کو دہشت گردی و انتہاءپسندی سے جوڑنے کی کوشش کی، اس سے پوری دنیا کے مسلمانوں کو تکالیف برداشت کرنا پڑی ہیں، عالمی برادری کو اس کی وجوہات کی جانب توجہ دینی چاہئے، تمام معاشروں میں انتہاءپسند موجود ہوتے ہیں لیکن کوئی مذہب انتہاءپسندی کا پرچار نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون سے قبل زیادہ خودکش حملے تامل ٹائیگرز نے کئے جو ہندو تھے لیکن کسی نے ہندوﺅں کو انتہاءپسند نہیں کہا، اسی طرح جاپانی پائلٹوں نے بھی دوسری جنگ عظیم میں خودکش حملے کئے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ مذہب کا انتہاءپسندی سے تعلق نہیں ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ انتہاءپسند اور روشن خیال اسلام کی اصلاحات سے متفق نہیں ہیں، اسلام ایک ہی ہے جو ہمارے نبی نے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم دنیا میں اسلام کا اصل تشخص نہیں پیش کر سکے، مغرب میں مخصوص افراد جان بوجھ کر گستاخی کرتے ہیں لیکن اکثریت کو اس کا علم نہیں، انہیں بتانے کی ضرورت ہے کہ ہمارے نبی ہمارے لئے کتنی عزت و تکریم رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے نبی ہمارے دلوں میں رہتے ہیں، جب کوئی توہین کرتا ہے تو ہمیں دلی دکھ ہوتا ہے اور دل کو پہنچنے والا دکھ جسم کو پہنچنے والے دکھ سے بہت زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو اس سے بہت دکھ ہوتا ہے، جس طرح ہولوکاسٹ کے معاملہ پر یہودیوں کو تکلیف ہوتی ہے، ہمیں ایک انسانی معاشرے میں دوسرے انسانوں کا احساس کرنا ہو گا مغرب کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نبی نے مدینہ میں دنیا کی پہلی فلاحی ریاست قائم کی جو مسلمان ممالک کیلئے ایک مثال ہے، اسلام کی پہلی فلاحی ریاست میں غریب، خواتین، بیواﺅں، معذوروں کے حقوق کا تحفظ کیاگیا اور تمام انسانوں کو برابری کا درجہ دیا گیا، غلاموں کے ساتھ گھر کے فرد جیسا سلوک کرنے کی تلقین کی گئی اور ایک غلام کو آزاد کرنے کو سب سے بڑی نیکی قرار دیا گیا، اسی طرح اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی بھی ضمانت دی گئی، نبی نے اعلان کیا کہ ہر کوئی اپنی عبادت گاہوں میں جانے کیلئے آزا د ہے، قانون کے سامنے سب برابر ہیں اور رنگ و نسل کی کوئی تفریق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے چوتھے خلیفہ راشد ایک یہودی سے عدالتی کیس ہار گئے تھے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں ہر کوئی جوابدہ تھا اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایک یہودی اقلیتی باشندہ کو برابر کے شہری کا درجہ حاصل تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان معاشروں میں اقلیتوں سے امتیازی سلوک نبی کی تعلیمات کے منافی ہے۔