چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاویداقبال کا کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور میں تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 2 اکتوبر (اے پی پی) قومی احتساب بیوروکے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاویداقبال نے کہا ہے کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہورنہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں عزت واحترام کی نظرسے دیکھی جاتی ہے کیونکہ ڈاکٹری کا شعبہ جس کوہم مسیحا سمجھتے ہیں، معاشرے میں عوام کے دردکا درما اور تپتی دھوپ میں سائبان کی حیثیت رکھتا ہے اوراگرمرض ناقابل علاج اورخطرناک صورتحال اختیارکرچکا ہو تو ڈاکٹر …

اسلام آباد ۔ 2 اکتوبر (اے پی پی) قومی احتساب بیوروکے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاویداقبال نے کہا ہے کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہورنہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں عزت واحترام کی نظرسے دیکھی جاتی ہے کیونکہ ڈاکٹری کا شعبہ جس کوہم مسیحا سمجھتے ہیں، معاشرے میں عوام کے دردکا درما اور تپتی دھوپ میں سائبان کی حیثیت رکھتا ہے اوراگرمرض ناقابل علاج اورخطرناک صورتحال اختیارکرچکا ہو تو ڈاکٹر سرجری تجویزکرتے ہیں۔کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں آج سرجنز کے درمیان ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دیمک توکچھ دوائیوں سے ٹھیک ہوسکتی ہے لیکن کرپشن ایک ایسا ناسور ہے جس نے ہمارے ملک کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں، اب تو غالبا سرجری کے بغیر کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں ہے جس کے لیے معاشرے کے تمام طبقوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ایک منزل کا تعین کرلیا ہے، وہ منزل ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ اور بدعنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی ہے، یہی وجہ ہے کہ نیب نے گزشتہ بائیس ماہ میں قوم کے لوٹے گئے 71 ارب روپے بلاواسطہ اور بالواسطہ برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت تقریبا 95 ارب ڈالر کا مقروض ہے، مگر اتنی بڑی رقم کہاں پر خرچ ہوئی نظر نہیں آتی، اگر نیب متعلقہ افراد سے قوم کی لوٹی گئی رقوم کے خرچ کے بارے میں پوچھتا ہے تو کیا یہ جرم ہے؟۔ اگر ملک کی لوٹی گئی رقوم کے بے جا استعمال کے بارے میں پوچھنا جرم ہے تو نیب جس کا مینڈیٹ قانون کے مطابق بدعنوان عناصر سے قوم کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی ہے وہ یہ جرم کرتا رہے گا۔