پاکستان کے پارلیمانی وفد کی بین الپارلیمانی یونین کی صدر بیرن گوئیواس گیبریلا اور آئی پی یو کے سیکرٹری جنرل چونگ اونگ مارٹن سے ملاقاتیں

اسلام آباد ۔ 15 اکتوبر (اے پی پی) پاکستان کے پارلیمانی وفد نے مقبوضہ کشمیر پر بھارت کی غیر قانونی کی قبضے کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری پر مقبوضہ کشمیر کی عوام پر جاری بھارتی مظالم کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ سربیا، بلغراد سے موصول ہونے والے پیغام کے مطابق پاکستانی پارلیمانی وفد نے ان خیالات کا اظہار بین الپارلیمانی یونین کی …

اسلام آباد ۔ 15 اکتوبر (اے پی پی) پاکستان کے پارلیمانی وفد نے مقبوضہ کشمیر پر بھارت کی غیر قانونی کی قبضے کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری پر مقبوضہ کشمیر کی عوام پر جاری بھارتی مظالم کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ سربیا، بلغراد سے موصول ہونے والے پیغام کے مطابق پاکستانی پارلیمانی وفد نے ان خیالات کا اظہار بین الپارلیمانی یونین کی صدر بیرن گوئیواس گیبریلا اور آئی پی یو کے سیکرٹری جنرل چونگ اونگ مارٹن سے ہونے والی اپنی علیحدہ علیحد ہ ملاقاتوں میں کیا۔ وفد نے چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی سید فخر امام کی سربراہی میں آئی پی یو کے صدر اور سیکرٹری جنرل سے منگل کے روز بلغراد میں ملاقاتیں کیں۔ وفد میں سید فخر امام کے علاوہ اراکین قومی اسمبلی ملک احسان ٹوانا، شازیہ مری اور سینیٹر شیری رحمن شامل تھیں۔ وفد نے آئی پی یو کے صدر اور سیکرٹری جنرل سے کشمیر میں جاری انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں اور مظالم کا جائزہ لینے کے لیے آئی پی یو کا فیکٹ فائنڈننگ مشن بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ سید فخر امام نے آئی پی یو پرمسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے کے لیے کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں نقل و حرکت اور ذرائع مواصلات پر عائد پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ وادی میں 5اگست سے مکمل طور پر کرفیو نافذ ہے اور صرف مخصوص علاقوں میں کچھ دیر کے لیے اس میں نرمی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی اوپن ایئر جیل بنا دیا ہے اور وادی میں ہزاروں نوجوان لاپتہ ہیں اور کشمیری قیادت کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کی سفارشات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کے انکوارئری کمیشن برائے انسانی حقوق کے قیام کے مطالبے کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے بین الاقوامی مبصرین کے مشن کو کشمیر میں جانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ انہوں کہا کہ بین الاقوامی میڈیا نے کشمیر میں بھارت کے غیر جمہوری اور غیر مہذب اقدامات کی مذمت کی ہے تاہم وہ بھارت کی قیادت کو ابتک اپنے فاشسٹ اور نسل پرستانہ اقدامات پر نظرثانی کرنے میں راضی کرنے پر ناکام رہے ہیں۔ چیئرمین کشمیر کمیٹی نے کشمیر میں گزشتہ سات دہائیوں جاری بھارتی مظالم کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 1989ءسے اب تک بھارتی افواج نے تقریباً ایک لاکھ معصوم کشمیریوں کو شہید کیا ہے جن میں 7130 وہ افراد بھی شامل ہیں جو بھارتی جیلوں میں زیر حراست تھے۔ انہوں نے بتایا کہ مقبوضہ وادی میں بھارتی افواج خواتین کی عصمت دری کو بطور اپنی دہشت جمانے کے ہتھیار کے طور استعمال کر تی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں عصمت دری کے 12ہزار سے زائد واقعات ہوئے ہیں اور 1ملین سے زائد بچے یتیم ہوئے ہیں۔ بھارتی افواج نے جعلی مقابلوں میں ہزاروں بے گناہ کشمیر یوں کو شہید کیا ہے اور اب تک 7 ہزار سے زائد اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہے۔ سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ آئی پی یو بھارت کو مذکرات کی میز پر لانے کا بہتریں پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر بات چیت سے گریز کیا ہے اور بین الاقوامی تنظیموں اور پارلیمانی فورمز کے نمائندوں کو مقبوضہ کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں دی۔ چیئر مین قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور ملک احسان اللہ ٹوانا نے کہا کہ مسئلہ کشمیر 72 سالہ دیرینہ مسئلہ ہے جسے حل کرنے کے لیے بھارت کو مقبوضہ وادی میں سازگار ماحول فراہم کرنے اور عالمی برادری کی طرف سے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔