وزیراعظم عمران خان سی پیک کو پورے خطے کے لئے گیم چینجر سمجھتے ہیں نغمانہ ہاشمی

بیجنگ۔ 17 اکتوبر (اے پی پی) چین میں پاکستان کی سفیر نغمانہ ہاشمی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم 19.08 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے اور دونوں ممالک دو طرفہ تجارت میں اضافہ کے لئے پرعزم ہیں۔ یہ بات انہوں نے چینی اخبارچائنا ڈیلی میں شائع ہونے والے آرٹیکل میں کہی ہے۔ نغمانہ ہاشمی نے اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ …

بیجنگ۔ 17 اکتوبر (اے پی پی) چین میں پاکستان کی سفیر نغمانہ ہاشمی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم 19.08 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے اور دونوں ممالک دو طرفہ تجارت میں اضافہ کے لئے پرعزم ہیں۔ یہ بات انہوں نے چینی اخبارچائنا ڈیلی میں شائع ہونے والے آرٹیکل میں کہی ہے۔ نغمانہ ہاشمی نے اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ دفاعی پیداوار کے شعبے میں دونوں ممالک کے مشترکہ منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے۔ اس کے نتیجہ میں الخالد ٹینک اور جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارے بنائے گئے۔ سفارتی محاذ پر دونوں ممالک ملٹی لیٹرلزم کے فروغ اور اقوام متحدہ کے چارٹر پر عملدرآمد کے لئے پر عزم ہیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات اور تعاون کے دائرہ کار میں توسیع ہو رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، سماجی اور اقتصادی شعبوں اور پر امن مقاصد کے لئے جوہری ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون جاری ہے۔ نغمانہ ہاشمی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی جڑیں ثقافت اور تاریخ میں جڑی ہے۔ پاکستانی سفیر نے کہا کہ اس وقت چین کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں میں 28 ہزار سے زیادہ پاکستانی طالب علم زیر تعلیم ہیں اسی طرح چینی طلباء و طالبات پاکستانی تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں۔ چین اور پاکستان کے درمیان عوامی سطح پر روابط میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔ اس وقت سب سے زیادہ چین کے شہری پاکستان آرہے ہیں۔ پاکستانی سفیر نے پاک چین اقتصادی راہداری ( سی پیک) کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدیم شاہراہ ریشم کا احیاء ہے۔ زمانہ قدیم سے چینی تاجر انہی راستوں سے یورپ کی طرف تجارتی کاروان لے کر جاتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک کے تحت پاکستان میں بجلی کی پیداوار اور ترسیلی منصوبوں کے پہلے مرحلے پر عملدرآمد کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجہ میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں جیسے شاہراہوں ،ریلویز، ہوائی اڈوں، بندر گاہوں، گیس پائپ لائنز اور آپٹک فائبر کے منصوبوں کو اپ گریڈ کیا گیا ۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں سماجی اور اقتصادی ترقی اور نئی ملازمتوں کی پیداوار پر توجہ دی جائے گی۔ اسی طرح خصوصی اقتصادی زونز قائم کئے جا رہے ہیں جہاں چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی ۔پاکستانی سفیر نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔

مزید خبریں