وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کا ملین مارچ سے خطاب

اسلام آباد ۔ 20 اکتوبر (اے پی پی) وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ کشمیر کاز کے لئے پوری قوم کا متحد ہونا وقت کا تقاضا ہے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، کشمیر کی آزادی تک تقسیم ہند کا ایجنڈا نامکمل ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جموں کشمیر سالیڈریٹی موومنٹ ، تحریک نوجوانان پاکستان اور دیگر تنظیموں کے زیر اہتمام …

اسلام آباد ۔ 20 اکتوبر (اے پی پی) وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ کشمیر کاز کے لئے پوری قوم کا متحد ہونا وقت کا تقاضا ہے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، کشمیر کی آزادی تک تقسیم ہند کا ایجنڈا نامکمل ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جموں کشمیر سالیڈریٹی موومنٹ ، تحریک نوجوانان پاکستان اور دیگر تنظیموں کے زیر اہتمام ملین مارچ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کے دوران دنیا کا سب سے طویل 5کلومیٹر لمبا کشمیر کا پرچم بھی لہرایا گیا اور کشمیری عوام کو اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا گیا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ آج کے دن ہم سب نے یہ عہد کرنا ہے کہ ہم اس غزوہ ہند کی تیاری کریں گے جس کا اشارہ خود نبیۖ نے دیا۔ انہوں نے کہا کہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اور کشمیر کی آزادی تک تقسیم ہند کا ایجنڈا نامکمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم نے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ ساتھ بھارتی ظلم و بربریت کے خلاف جہاد بالسان اور جہاد بالقلم کا اعلان کر دیا ہے اور پوری قوم کشمیر کی آزادی تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب کشمیر آزاد ہو گا اور لال قلعے میں بھی سبز ہلالی پرچم لہرائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بہن آسیہ اندرابی بھی رہا ہوں گی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی واپس آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم پوری قوم کی طرف سے کشمیری عوام کو اپنی حمایت کا یقین دلاتے ہیں اور نریندر مودی کو پیغام دیتے ہیں کہ وہ کشمیری عوام کو استصواب رائے کا حق دے۔ اس موقع پر انہوں نے کشمیر بنے گا پاکستان اور پاکستان زندہ باد کے واشگاف نعرے بھی لگوائے اور جدوجہد خوردارادیت کرنے والے حریت رہنمائوں کے غیر متزلزل جذبے کو خراج تحسین پیش کیا۔ ملین مارچ سے آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان اور دیگر رہنمائوں نے بھی خطاب کیا۔ مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے کشمیر ملین مارچ کے دوران آزاد کشمیر کا 5کلومیٹر طویل پرچم جناح ایونیو کے ساتھ لہرایا گیا۔ مارچ کا آغاز بلیو ایریا سینٹورس سے ہوا جو ڈی چوک پر اختتام پذیر ہوا۔ مارچ میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد، سول سوسائٹی، سیاسی و حکومتی شخصیات، اقلیتیں، تعلیمی اداروں کے نوجوان، خواتین و بچے بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ ملین مارچ کے دوران پانچ مختلف مقامات پر اسٹیج بنائے گئے، پہلا اسٹیج خواتین، دوسرا چیمبر آف کامرس، مزدور یونین، تیسرا اساتذہ ، طلبا، چوتھا اسٹیج کشمیر لیڈرشپ الائنس جبکہ پانچواں سٹیج سوسائٹی اور اقلیتوں کے لئے مختص کیا گیا تھا۔