بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنرکی دفتر خارجہ طلبی پاکستان کی لائن آف کنٹرول کے مختلف سیکٹروں میں بھارتی قابض افواج کی بلااشتعال فائرنگ کی مذمت

اسلام آباد ۔ 20 اکتوبر (اے پی پی) پاکستان نے لائن آف کنٹرول کے مختلف سیکٹروں میں بھارتی قابض افواج کی بلااشتعال فائرنگ پر بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنرکو دفتر خارجہ طلب کر کے اس اقدام کی مذمت کی۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 19اور 20اکتوبر کو بھارتی مسلح افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر جورا، شاہ کوٹ اور نوسیری سیکٹروں میں بلااشتعال …

اسلام آباد ۔ 20 اکتوبر (اے پی پی) پاکستان نے لائن آف کنٹرول کے مختلف سیکٹروں میں بھارتی قابض افواج کی بلااشتعال فائرنگ پر بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنرکو دفتر خارجہ طلب کر کے اس اقدام کی مذمت کی۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 19اور 20اکتوبر کو بھارتی مسلح افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر جورا، شاہ کوٹ اور نوسیری سیکٹروں میں بلااشتعال فائرنگ کی گئی جس سے 5معصوم شہری شہید ہو گئے جن میں محمد رفاقت عمر 28سال، حاجی اعظم عمر 60سال، حاجی سرفراز 47سال جبکہ دو آزاد کشمیر کے غیر رہائشی محنت کش باشدے لیاقت اور فیصل شہید ہو گئے جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 6افراد شدید زخمی بھی ہوئے۔ دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی قابض افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر شہری علاقوں کو آرٹلری اور بڑے خود کار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، بھارتی افواج کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی کا سلسلہ 2017ء سے جاری ہے جب بھارتی افواج نے سیز فائر کی 1970 بار خلاف ورزیاں کیں، دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان لائن آف کنٹرول کے ساتھ نام نہاد پناہ گاہوں کو ہدف بنانے کی بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کو مسترد کرتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ علاقائی امن اور سلامتی کے حوالے سے پاکستان نے پی5ممالک سے کہا کہ وہ بھارت سے کہا کہ وہ ان نام نہاد پناہ گاہوں کے ثبوت فراہم کرے۔ پاکستان پی 5ممالک کے سفیروں کو بھارتی جھوٹ بے نقاب کرنے کے لئے ان جگہوں پر دورہ کرانے کے لئے تیار ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے شہریوں کو ٹارگٹ بنانے کا جرم مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سول آبادی کو نشانہ بنانے کا اقدام انسانی وقار، عالمی انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے جو علاقے کی سلامتی اور امن کے لئے خطرہ ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیاکہ وہ 2003ء کے سیز فائر معاہدے کا احترام کرے، گزشتہ روز کے اور سیز فائرز کی خلاف ورزیوں کے واقعات کی تحقیقات کرے اور لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر سیز فائر کا احترام کرے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے پاکستان اور بھارت کے لئے فوجی مبصر مشن کو اجازت دے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حاصل مینڈیٹ کی روشنی میں کردار ادا کر سکے۔