اسلام آباد ۔ 21اکتوبر (اے پی پی) وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی مخلص قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل کے ساتھ پر امن مذاکرات کا آغاز کرنا چاہتی ہے۔ آزادی مارچ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کی کوششوں کو بری طرح متاثر کرسکتا ہے۔نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے …
مولانا فضل الرحمٰن آزادی مارچ کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کی کوششوں سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان
اسلام آباد ۔ 21اکتوبر (اے پی پی) وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی مخلص قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل کے ساتھ پر امن مذاکرات کا آغاز کرنا چاہتی ہے۔ آزادی مارچ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کی کوششوں کو بری طرح متاثر کرسکتا ہے۔نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ مذاکرات ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے سیاسی جماعتیں اپنے تحفظات دور کرسکتی ہیں۔علی محمد نے کہا کہ اسلام آباد میں دھرنے کے فیصلے پر (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کی سیاسی جماعتیں اب بھی الجھن میں ہیں۔انہوں نے جے یو آئی ف کے سربراہ کی جانب سے اعلان کردہ حکومت مخالف تحریک پر بھی تنقید کی اور کہا کہ مولانا صاحب اس نام نہاد آزادی مارچ کے ذریعے کس کی آزادی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے یہ واضح نہیں ہے کہ ان کا دھرنا کشمیر کیلئے ہے یا پی ٹی آئی کی جمہوری حکومت کے خلاف ہے۔جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تھے لیکن انہوں نے کشمیر کے حوالے سے ایک لفظ بھی نہیں کہا ۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو کشمیر کاز پر اپنی نہ ہونے کے برابر کارکردگی کی تلافی کرنی چاہئے تھی، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بات چیت کرنے کے لئے تیار ہے لیکن بلیک میلنگ کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔وزیر مملکت نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کسی کو بھی ملک میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔انہوں نے کہا کہ انارکی پھیلانے والوں کے خلاف قانون اور آئین کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔وزیر مملکت نے مزید کہا کہ پاکستان ایک مشکل مرحلے سے گذر رہا ہے اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی نازک ہے لہذا ہم سب کو دوسروں پر تنقید کرنے کی بجائے مسئلہ کشمیر کو اٹھانا چاہئے۔علی محمد نے کہا کہ مدارس کے معصوم طلبا کو ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کرنا درست نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے دھمکی آمیز ہتھکنڈوں کے پیچھے حزب اختلاف کا اصل مقصد حکومت پر احتساب سے بچنے اور ذاتی مقاصد حاصل کرنے کے لئے دباؤ ڈالنا ہے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کی کوششوں سے لوگوں کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں لیکن پی ٹی آئی کی حکومت اس مقصد کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت اور پاک فوج کشمیر کے مسئلے کے بارے میں ایک پیج پر ہیں۔انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لئے حکومت کی جانب سے شروع کی گئی سرگرمیوں میں حصہ لیں۔انہوں نے کہا کہ تمام داخلی و خارجی چیلنجز کے باوجود یہ بات قابل تحسین ہے کہ وزیر اعظم عمران خان مسئلہ کشمیر کو ہر بین الاقوامی سطح پر موثر انداز میں اجاگر کررہے ہیں۔









