نیب کا تاجر برادری کے تحفظات اور جائز شکایات کے ازالہ کے 6 رکنی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد ۔ 21 اکتوبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) نے معیشت کی بہتری، تاجر برادری کے تحفظات اور جائز شکایات کے ازالہ کے لیے نیب آرڈیننس 1999کے سیکشنC 33- کے تحت دیئے گئے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کی مشاورت کے بعد ایک 6 رکنی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر افتخار …

اسلام آباد ۔ 21 اکتوبر (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) نے معیشت کی بہتری، تاجر برادری کے تحفظات اور جائز شکایات کے ازالہ کے لیے نیب آرڈیننس 1999کے سیکشنC 33- کے تحت دیئے گئے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کی مشاورت کے بعد ایک 6 رکنی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر افتخار علی ملک، پاکستان فیڈریشن آف چیمبر اینڈ انڈسٹری کے صدر دارو خان اچکزئی، بینک الفلاح کے سابق صدر عاطف باجوہ، لاہور چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجم نثار، ملت ٹریکٹرز کے چیئرمین سکندر مصطفی خان، سی پی ایل سی کراچی کے سابق چیف جمیل یوسف پر مشتمل ہے۔ مذکورہ کمیٹی بزنس کمیونٹی کے متعلق کسی بھی مسئلہ پر اپنی سفارشات چیئرمین نیب کو پیش کرے گی جن کا مکمل جائزہ نیب کی 3 رکنی کمیٹی جو کہ ڈپٹی چئیرمین نیب، پراسیکیوٹر جنرل اکائونٹبلیٹی نیب ا ور ڈی جی آپریشن نیب پر مشتمل ہو گی جو ہرسفارش کا انتہائی گہرائی اور گیرائی سے جائزہ لے کر اپنی حتمی سفارشات چئیرمین نیب کو پیش کرے گی اور بغیر کسی تاخیر کے قانون کے مطابق اس کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔ بزنس کمیونٹی کی مذکورہ کمیٹی اپنی معروضات براہ راست چئیرمین نیب کوبھی پیش کر سکے گی اور باہمی افہام و تفہیم سے ہر مسئلہ کا قانونی حل نکالا جائے گا۔ اس ضمن میں چیئرمین نیب کا فیصلہ حتمی ہو گا۔جو ریفرنس دائر ہو چکے ہیں ان کے بارے میں شکایات قابل پزیرائی نہیں ہوں گی۔بزنس کمیونٹی کی مذکورہ کمیٹی کی حیثیت صرف مشاورتی ہو گی اور نیب کو قانونی طو رپر تفویض کردہ اختیارات کے استعمال پر کوئی قد غن نہیںہو گی ۔نیب بزنس کمیونٹی کا انتہائی احترام کرتا ہے اور ملک کی معاشی ترقی اور خوشحالی اور معیشت کی بہتری کے لئے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا کیونکہ نیب کی پہلی اور آخری وابستگی صرف اورصرف ریاست پاکستان اور اس کی خوشحالی سے ہے۔