اسلام آباد ۔ 22 اکتوبر (اے پی پی) وزارت موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جنگلی حیات کے سروے پر باقاعدہ ریڈ ڈیٹا بک پر کام کا آغاز کر دیا۔ ریڈ ڈیٹا بک میں وزارت موسمیاتی تبدیلی کے زیر انتظام بین الاقوامی اور مقامی جنگلی حیات پر کام کرنے والے ادارے بھی شامل ہو رہے ہیں جن میں آئی یو سی این، ڈبلیو ڈبلیو ایف، ڈبلیو سی …
وزارت موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جنگلی حیات کے سروے پر باقاعدہ ریڈ ڈیٹا بک پر کام کا آغاز کر دیا
اسلام آباد ۔ 22 اکتوبر (اے پی پی) وزارت موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جنگلی حیات کے سروے پر باقاعدہ ریڈ ڈیٹا بک پر کام کا آغاز کر دیا۔ ریڈ ڈیٹا بک میں وزارت موسمیاتی تبدیلی کے زیر انتظام بین الاقوامی اور مقامی جنگلی حیات پر کام کرنے والے ادارے بھی شامل ہو رہے ہیں جن میں آئی یو سی این، ڈبلیو ڈبلیو ایف، ڈبلیو سی ایس اور سی بی او، جنگلی حیات کے مقامی محکمے اور جیا لوجیکل سروے آف پاکستان بھی شامل ہے۔ سروے میں پچاس کے قریب افراد شامل کئے گئے ہیں۔ اس سروے کا باقاعدہ آغاز کلر کہار میں ایک روزہ ٹریننگ کیمپ سے کیا گیا۔ سروے میں شامل تمام افراد کو سنو لیپرڈ کی جانب سے جدید تقاضوں کے مطابق ٹریننگ اور ٹریننگ ٹولز کے استعمال پر مکمل آگاہی فراہم کی گئی۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شروع ہونے والی سروے میں پورے پاکستان سے جنگلی حیات کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا جس کا مقصد جنگلی حیات اور ان کے مسکن کو تحفظ فراہم کرنا جنگلی حیات کی افزائش نسل اور ان کی نشوونما کے لئے اقدامات اٹھانا ہے۔ یہ سروے پورے پاکستان سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے ضلع اٹک اور چکوال میں مختلف ٹیموں کی شکل میں تمام ادارے پہنچ چکے ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی حسن ناصر جامی نے سروے کے لئے بین الاقوامی اور مقامی اداروں کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان جنگلی حیات کی نشوونما اور تحفظ کے لئے بھرپور اقدامات اٹھائے گی اور اسی مقصد کے لئے آپ لوگو ں سے مدد لی جارہی ہے، بین الاقوامی اداروں کی شمولیت سے سروے سو فیصد درست اور اپنے ٹائم فریم کے مطابق مکمل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے تمام اداروں کو وزارت کی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ سروے میں شامل بین الاقوامی اداروں کے نمائندے نے حکومت پاکستان کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجود حکومت اور خصوصی طور پر وزارت موسمیاتی تبدیلی کا یہ بہت بڑا اقدام ہے۔ اس موقع پر شرکاء اور خصوصی طور پر پاکستانی طلبا نے بھر پور عزم کا اظہار کیا کہ اس شروع کئے گے سروے کو ہر ممکن طور پرمکمل کیا جائے گا۔









