کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیّد علی گیلانی کا وزیراعظم عمران خان کے نام خط

سرینگر ۔ 12 نومبر (اے پی پی) کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیّد علی گیلانی نے کشمیر کاز کی بھرپور حمایت اور مظلوم کشمیریوں کے لیے قربانیوںپر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اورعوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت چیئرمین نے وزیراعظم پاکستان کے نام ایک خط میںاللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ وہ وزیراعظم کواپنی عظیم ذمہ داریاں پوری کرنے کی طاقت …

سرینگر ۔ 12 نومبر (اے پی پی) کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیّد علی گیلانی نے کشمیر کاز کی بھرپور حمایت اور مظلوم کشمیریوں کے لیے قربانیوںپر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اورعوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت چیئرمین نے وزیراعظم پاکستان کے نام ایک خط میںاللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ وہ وزیراعظم کواپنی عظیم ذمہ داریاں پوری کرنے کی طاقت اورہمت عطافرمائے کیونکہ اللہ ہی نے انہیںاسلامی جمہوریہ پاکستان کی قیادت کے لیے چناہے۔ سیّد علی گیلانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں مظلوم کشمیریوں کی حمایت میں اورجموںوکشمیر کی متنازعہ حیثیت غیرقانونی طریقے سے تبدیل کرنے کے بھارتی فیصلے کے خلاف وزیراعظم عمران خان کے خطاب کی تعریف کی۔ انہوںنے کہاکہ یہ غیر قانونی فیصلہ کشمیریوں پر مسلط کرنے کی بھارتی کوشش کے نتیجے میں خطے میں بڑے پیمانے پر کرفیو لگایا گیا۔ سیّد علی گیلانی نے کہاکہ1947ء سے بھارتی قبضے اورمظالم کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کئی مراحل سے گزری ہے۔1988، 2008، 2010 اور2016 اس جدوجہد کے تاریخی سال ہیں۔ انہوں نے کہاکہ لوگوں کی مجموعی مزاحمت کی وجہ سے بھارت جدوجہد آزادی کو دبانے میں ناکام ہوگیا ہے۔ مقبوضہ علاقے میں فون اور انٹرنیٹ سمیت مواصلات کے ہرقسم کے ذرائع منقطع کردیئے گئے ہیں۔ سیّد علی گیلانی نے کہاکہ بچوں، بزرگوں، نوجوانوں، تاجروں، وکلائ، طلباء اورحریت قیادت اوران کے عزیزوں سمیت ہزاروں لوگوں کوشدید تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ 2010ء سے نوجوانوں کو اندھا کرنا کا سلسلہ جاری ہے اورجدوجہد کے اس مرحلے میں بھی سینکڑوں نوجوانوں کو پیلٹ گن کے ذریعے زخمی کیا گیاہے۔ انہوں نے کہاکہ خواتین کے ساتھ بدسلوکی ، جنسی ہراسانی اورزیادتی کو لوگوں کو دبانے کے لیے مسلسل ریاستی پالیسی کے طورپر استعمال کیا جارہا ہے۔ قابض بھارتی فورسز اب بھی گھروںمیں داخل ہوکر خواتین کے ساتھ بدسلوکی کررہی ہیں۔ نوجوان لڑکیوں کے والدین سے ان کی عمریں پوچھی جارہی ہیں اورقابض فورسز لوگوں کو کشمیر ی مسلم خواتین کی بے حرمتی کے اپنے ارادوں کے بارے میں بتارہی ہیں۔ نوے سالہ بزرگ رہنما نے کہاکہ بہت سے لوگوں کو دھمکیاں دی گئی ہیں کہ ان کو اپنے گھروں سے باہر پھینکا جائے گااور ان لوگوں کے گھروں کو ضبط کرنے کے لیے نوٹسز جاری کئے جارہے ہیں ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ لداخ کے مسلمانوں کو ظالم بھارتی فورسز کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے کیونکہ اس خطے کے لوگ بھی بھارت کے غیر قانونی اقدام کی مخالفت کررہے ہیں۔ حریت چیئرمین نے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی کہ وہ تاشقند، شملہ اور لاہور معاہدوں سمیت بھارت کے ساتھ تمام معاہدوں سے علیحدہ ہونے کا اعلان کریں کیونکہ بھارت نے یکطرفہ طوپر ان معاہدوں کو ختم کردیا ہے۔ انہوں نے عمران خان پرزوردیا کہ وہ کنٹرول لائن کو دوبارہ جنگ بندی لائن کا نام دے دیں کیونکہ بھارت مقبوضہ علاقے کی صورتحال کو 1947اور1948سے پہلے والی پوزیشن پر واپس لے گیا ہے۔ سیّد علی گیلانی نے کہاکہ حکومت پاکستان کو کشمیریوںکو ان کا حق خودارادیت دلوانے کیلئے اقوام متحدہ میں ہرممکن کوششیںاور عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانی چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ اگر بھارت کشمیریوں کو ان کا ناقابل تنسیخ حق دینے سے انکار کرتا ہے تو پاکستان کو اس کے خلاف پابندیاں عائد کرانے کیلئے کوششیں کرنی چاہئیں۔

مزید خبریں