کراچی۔ 12 نومبر (اے پی پی) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پیداواری لاگت میں کمی کرنے اور آسانیاں پیدا کرنے اور برآمدات میں تیزی کے حوالے سے دوسرکلر جاری کردیئے ہیں اور توقع ظاہر کی ہے کہ ایڈوانس پیمنٹ میں آسانی ہوگی اور بیرونی سروسز کیلئے کنٹریکٹ کرنے اور پیمنٹس میں رکاوٹیں دور ہوںگی،گورنر اسٹیٹ بینک نے یہ بھی اعلان کیا کہ ایکسپورٹرز کے چارسو ارب روپے کے ری فنڈ …
گورنراسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹررضاباقر کا پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
کراچی۔ 12 نومبر (اے پی پی) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پیداواری لاگت میں کمی کرنے اور آسانیاں پیدا کرنے اور برآمدات میں تیزی کے حوالے سے دوسرکلر جاری کردیئے ہیں اور توقع ظاہر کی ہے کہ ایڈوانس پیمنٹ میں آسانی ہوگی اور بیرونی سروسز کیلئے کنٹریکٹ کرنے اور پیمنٹس میں رکاوٹیں دور ہوںگی،گورنر اسٹیٹ بینک نے یہ بھی اعلان کیا کہ ایکسپورٹرز کے چارسو ارب روپے کے ری فنڈ ز حکومتی وعدے کے مطابق انہیں جلد ادا کردئے جائیں گے جس سے ملک کی ایکسپورٹ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا۔ منگل کوگورنراسٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹررضاباقر نے مرکزی بینک میںپریس کانفرنس سے خطاب میںکہا کہ ایکسپورٹرز کو ری فنڈ دینے کا فیصلہ ہوگیا ہے، جلد اعلان کردیا جائے گا، نئی مانیٹری پالیسی میں مہنگائی کی شرح میں کمی دیکھی جاسکتی ہے، ایکسپورٹرزکے لیے کاروباری آسانیوں سے متعلق دواہم پابندیاں اٹھالی گئیں ، جس میں دس ہزار ڈالر کی انوائس پراسیس کی اجازت شامل ہیں۔ ایکسپورٹرز کے لیے نئی پالیسی متعارف کرادی ہیں ، دس ہزار ڈالر کی انوائسنگ کی اجازت دیتے ہوئے، شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم ایکسپورٹ فائننس اسکیم کے تحت کاروباری آسانیاں دی گئی ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ کمرشل بینکوں کو براہ راست ایک سال کے لیے ایکسپورٹ کے مختلف سیکٹرز کو کاروباری آسانی کے لیے رقم کی حدبڑھانے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔ ڈاکٹررضاباقر نے ای ایف ایس اور ایل ٹی ایف ایس کے نام سے اسکیموں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے اب ایڈوانس پر پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے ،درآمدات کے لئے 10ہزار ڈالر تک انوائسنگ کی اجازت دیدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایز آف ڈوو¿ننگ بزنس اور ایکسپورٹرزکی بہتری اور آسانی کیلئے اعلانات کررہے ہیں اور اس سلسلے میں2 سرکلر اپنی ویب سائٹ پر لگائے ہیں اور ایڈوانس پیمنٹ کیلئے آسانی کردی ہے،امپورٹ کیونکہ مہنگی ہوگئی اسلئے ان اشیاءمینوفیکچرنگ میں مسئلہ تھا اس لئے ہم نے پیداواری لاگت کم کرنے کیلئے قدم اٹھایا ہے،باہر سے سروسز منگوانے کیلئے پیمنٹ کا طریقہ کار آسان کیا ہے، اسٹیٹ بینک نے جولائی 2018 میںایڈوانس پیمنٹ کیلئے پابندی لگائی تھی کیونکہ ایکسٹرنل حالات بہتر نہیں تھے ،زرمبادلہ کے ذخائر گر رہے تھے اسلئے پابندی لگائی گئی تھی لیکن اب ایڈوانس پیمنٹ 10ہزار ڈالر سے زیادہ کیلئے اجازت ہوگی،انوائس 10ہزار ڈالر تک کی رقم بینک سے لی جاسکتی ہیں، کنسلٹنس سروسز کیلئے پہلے اسٹیٹ بینک کی طرف سے لگائی گئی پابندی ختم کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ درآمدارت کیلئے پہلے مرحلے میں 10ہزار ڈالر تک محدود رکھا جائیگا، حالات جیسے جیسے بہتر ہونگے ہم 10ہزار ڈالر سے زائد کی شرط کو بڑھادیں گے۔گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ مئی میں ہم نے ایکسچینج رینج کو اوپن کیا تھا، وقت کے ساتھ ایکس چینج ریٹ میں بہتری آئی ،ہمارے پچھلے فیصلوں کی سبب ایکسٹرنل سائید میں بہتری آئی ۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ بارے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے قرضوں کا بوجھ کم ہوا ہے جس سے ریزرو بڑھے ہیںاس کے علاوہ ہماری پالیسی کی وجہ سے اعتماد بحال ہورہا ہے ،جب ریزرو میں اضافہ ہوتا ہے تو انویسٹرز کا اعتماد بڑھتا ہے ،ہمیں یقین ہے فارن ڈائیریکٹ انویسمنٹ میں بھی جلد بہتری آئے گی۔ ڈاکٹررضا باقرنے کہا کہ ہماری اکنامی میں برآمد کنندگان کا بڑا کردار ہے ،شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم بہتری کے لئے ہمیں برآمد کنندگان کو سپورٹ کرنا ضروری ہے ،جن ممالک نے ترقی کی وہ ایکسپورٹ پرمنحصرتھی،ہمیں دنیا بھر کی مارکیٹوں میں جانا ہے ،ایکسپورٹرز کو سپورٹ کرنے کے لئے اسکیم متعارف کرائی ہے،ای ایف ایس اسکیم سے برآمداکنندگان کو 3فیصد پر قرضے دئے جائیںگے ،جون 2018 سے ابتک قرضے لینے کی شرح میں اضافہ ہوا ،ان اسکیموں کو مزید بہتر بنانے کے لئے قرضوں کی شرح بڑھا رہے ہیں ،ان سیکٹرز کو پروموٹ کریںگے جو برآمدات نہیں کررہے یا پھر کم برآمدات کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایکسپورٹ فنانس اسکیم لانگ ٹرم فنانس اسکیم دو اسکیمیں ہیں،شارٹ ٹرم میں ایکسپورٹرز کو3فیصد انٹرسٹ ریٹ دینا پڑتا ہے،لانگ ٹرم میں 5 اور 6فیصد انٹرسٹ ریٹ دیا جاتا ہے،25 فیصد اضافہ ایکسپورٹرز کی وجہ سے ہوا ہے ،ان اسکیموں میں جو ایکسپورٹرز کی رقم بڑھارہے ہیں اس کیلئے اب بنکوں کوبراہ راست ایک سال کیلئے آگاہ کیا جائیگااورسیکٹرز کے حساب سے ہم رقم کی حد بڑھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ فارن ایکسچینج، آئی ایم ایف مشن اور معاشی حالات کے معاملات ہوئے ہیں،جولائی سے اب تک کافی ڈویلپمنٹ ہوئی ہے،اسٹاک مارکیٹ اوپر جارہی ہے،ڈالر کی قدر میں بھی ٹھہراﺅ آرہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں آئی ایم سے استعفا دے چکا ہوں اور اب میں پاکستان کے ایک ادارے کے لئے کام کرتا ہوں میراکام اپنے ملک کی بہتری کیلئے کام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرح سود کی وجہ سے انویسٹرز کو کافی پریشانی کا سامنا ہے ،مہنگائی کی وجہ سے شرح سود میں اضافہ کرنا پڑا ،مہنگائی بڑھنے کی وجہ کچھ خرابیاں تھی جن کو قابو کیا جارہا ہے ،مانیٹری پالیسی کمیٹی نے ان تمام مسائل پر نگاہ رکھی ہوئی ہے ،سخت قدم اٹھانے کی وجہ مسائل کو حل کرنا ہے،کچھ مہینے پہلے معیشت کو سنگین مسائل درپیش تھے ،جی ڈی پی ہماری وہی ہے جو پہلے تھی،ہماری اب گروتھ منفی نہیں ہے۔








