اسلام آباد ۔ 13 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے پر حکومت کا مؤقف بالکل واضح ہے، مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ختم کرنے تک بھارت کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی، پہلی مرتبہ حکومت نے کشمیر کا معاملہ بھرپور انداز میں اٹھایا ہے، تاریخ میں پہلی مرتبہ عالمی سطح پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف …
مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ختم کرنے تک بھارت کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی، ڈاکٹر شیریں مزاری

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 13 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے پر حکومت کا مؤقف بالکل واضح ہے، مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ختم کرنے تک بھارت کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی، پہلی مرتبہ حکومت نے کشمیر کا معاملہ بھرپور انداز میں اٹھایا ہے، تاریخ میں پہلی مرتبہ عالمی سطح پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف بات ہو رہی ہے،گذشتہ حکومتوں کا کشمیر کے معاملے پر بیانیہ کنفوزیشن کا شکار تھا، ماضی سیاسی حکومت کشمیر کے مسئلے کو موثر انداز میں نہیں اٹھا سکے،مودی کشمیر میں وہی کچھ کر رہا ہے جو کچھ فلسطین میں کیا گیا، عالمی برادری اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھول چکی ہے ، ہمیں بچوں اور خواتین کے ساتھ مظالم پر بھی مرکوز کرنا چاہئے، مقبوضہ کشمیر میں اس وقت بچے خوف میں مبتلا ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ اس وقت کشمیر کے مسئلے پر حکومت کا موقف بلکل واضح ہے۔ بھارت کے ساتھ کرفیو ختم کرنے تک کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ پہلی مرتبہ حکومت نے کشمیر کا معاملہ بھرپور انداز میں اٹھایا ہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ عالمی سطح پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف بات ہو رہی ہے۔ گذشتہ حکومتوں کا کشمیر کے معاملے پر بیانیہ کنفوزیشن کا شکار تھا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سیاسی حکومت کشمیر کے مسئلے کو موثر انداز میں نہیں اٹھا سکے۔ مودی کشمیر میں وہی کچھ کر رہا ہے جو کچھ فلسطین میں کیا گیا۔عالمی برادری اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھول چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بچوں اور خواتین کے ساتھ مظالم پر بھی فوکس کرنا چاہئے۔ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت بچے خوف میں مبتلا ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں پر تشدد کر کے خوف پھیلایا جا رہا ہے۔ کشمیر میں بھارتی مظالم کا معاملہ صرف اقوام متحدہ نہیں بلکہ ہر فورم پر اٹھانا چاہئے۔ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف کشمیر نہیں بھارت میں بھی مسلمانوں کے ساتھ زیادتیاں ہو رہی ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف زیادتیوں کا معاملہ بھی بھرپور انداز میں اٹھانا چاہئے۔ ورلڈ ٹیررازم کو پاکستان کے ساتھ جوڑنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ مسئلہ کشمی کے حل کے لئے حکومت تمام آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر پارلیمان کا اجلاس بلایا جانا چاہئے۔ ہمیں بھارتی فوج کے واپس بیرکس میں جانے کا مطالبہ کیا جانا چاہئے۔ ہمیں ڈائیلاگ کے ذریعے معاملے کی حل کی طرف جانا چاہئے۔ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ مشرقی تیمور اورکشمیر پر سلامتی کونسل کی ایک جیسی قراردادیں تھیں لیکن مشرقی تیمور ایک مسلمان ملک کا حصہ تھا اس لئے اس پر قراداد پر فی الفور عمل درآمد کیا گیا لیکن کشمیر پر چونکہ غیر مسلم ملک کا قبضہ ہے اس لئے اس کے بارے میں قراردادوں پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ تمام کشمیریوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر ان کی آپس میں بات چیت ہو اور پھر انہیں سہ فریقی مذاکرات کا حصہ بنانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ بھارت مذاکرات کی میز پر نہیں آتا تویہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب افغانستان کے حوالے سے مذاکرات شروع ہوئے تب افغانستان نے بھی مذاکرات سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کشمیریوں نے آزاد کرایا ہے اور یہاں ان کی نمائندہ حکومت ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کشمیر کے تنازعہ پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل پر ہی حقیقی سرحد کا تعین ہو سکے گا۔ سیمینار سے سابق سفیر ڈاکٹر عبدالباسط اور میجر جنرل (ر) سعد خٹک نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر شیریں مزاری نے سوینئر بھی دیئے۔








