وفاقی وزیر مواصلات کا قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 14 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ ہم کسی کی صحت پر سیاست نہیں کر رہے‘ وزیراعظم کے حوالے سے اپوزیشن ارکان نے حقائق توڑ مروڑ کر بیان کئے ہیں‘ کابینہ کے فیصلے کی مکمل تائید کرتا ہوں‘ نواز شریف ضمانت دے کر باہر علاج کے لئے جاسکتے ہیں‘ کارکے کیس میں پاکستان کو ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کا …

اسلام آباد ۔ 14 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ ہم کسی کی صحت پر سیاست نہیں کر رہے‘ وزیراعظم کے حوالے سے اپوزیشن ارکان نے حقائق توڑ مروڑ کر بیان کئے ہیں‘ کابینہ کے فیصلے کی مکمل تائید کرتا ہوں‘ نواز شریف ضمانت دے کر باہر علاج کے لئے جاسکتے ہیں‘ کارکے کیس میں پاکستان کو ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کا جرمانہ وزیراعظم عمران خان کی ذاتی کاوشوں کی وجہ سے معاف ہوا ہے‘ بیرون ملک جیلوں میں 4687 پاکستانی قیدی رہا کردیئے گئے ہیں‘ وزیراعظم کی کوششوں سے ریکوڈک کیس میں بھی پاکستان پر عائد چھ ارب ڈالر کا جرمانہ معاف ہو جائے گا۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ ہمارا نعرہ نہیں ہمارا ایمان ہے کہ ہم حقیقی معنوں میں پاکستان کو فلاحی ریاست بنائیں گے۔ ہمارا نعرہ ہے کہ اس بیروزگار اور غریب ووٹر کو عزت دو ‘ جو تعلیم سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹیوں کے غیر فعال ہونے کی بات کی گئی ہے۔ مواصلات کی کمیٹی کا ایک سال اجلاس اس لئے نہیں ہوا کیونکہ جس کا بھائی خود ٹھیکیدار تھا اسے کمیٹی کا چیئرمین لگانے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس طرح چیئرمین لگے تو نہ کمیٹی چلے گی نہ ایوان اور نہ ہی ملک چل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی کی صحت پر سیاست نہیں کرنا چاہتے۔ وزیراعظم نے سب کو یہ کہا ہے کہ آپ دعا کر سکتے ہیں‘ کسی نے صحت کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دینا۔ نواز شریف کی صحت پر روزانہ ان کے ترجمان بیانات دے رہے ہیں۔ نواز شریف کو ہم نے نہیں سپریم کورٹ کے پانچ ججوں نے سزا دی ہے۔ اس کی بنیاد پر وہ مجرم قرار پائے۔ حکومت تو یہ کر سکتی تھی کہ ان کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے۔ اگر میاں صاحب کی صحت انہیں پیاری ہے تو مال کا خیال نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ 35 سال حکومت میں رہنے کے باوجود یہ ایک ایسا ہسپتال نہیں بنا سکے جہاں ان کا علاج ہو سکے۔ کابینہ کے فیصلے کی مکمل تائید کرتا ہوں۔ ضمانت دے کر باہر علاج کے لئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے وزیراعظم کے حوالے سے حقائق کے برعکس بات کی ہے۔ اسحاق ڈار ان کا وزیر خزانہ تھا۔ شریف خاندان کے لئے منی لانڈرنگ کرتا تھا۔ اسحاق ڈار اور علی عمران مفرور ہیں۔ حسن اور حسین نواز اور شہباز شریف کا ایک صاحبزادہ بھی مفرور ہیں وہ وطن واپس نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے جب امریکہ میں ختم نبوت اور ناموس رسالت‘ کشمیر بنے گا پاکستان کی بات کی اس کا حوالہ انہوں نے کیوں نہیں دیا۔ جیلوں میں تو مجرم ہوتے ہیں ان کے درمیان تفریق نہیں کی جاسکتی۔ طاقتور کے لئے ایک قانون اور کمزور کے لئے دوسرا قانون نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا بالکل اجلاس ہونا چاہیے۔ ہمیں گیس اور بجلی کی رائلٹی نہیں دی گئی۔ کے پی کے 200 میگاواٹ بجلی پیدا کرتا تھا مگر اس کے باوجود وہاں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ تھی۔ ہم پر بجلی چوری کا الزام لگایا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کارکے کیس کے تحت پاکستان کو وزیراعظم کی مداخلت سے ایک ارب 20 کروڑ کا جرمانہ معاف ہوا۔ 4687 پاکستانی بیرون ملک جیلوں سے رہا ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ریکوڈک کیس میں 6 ارب ڈالر کا ہونے والا نقصان بھی بچ جائے گا۔ رواں ہفتہ سٹاک ایکسچینج میں سب سے زیادہ تیزی ہوئی۔ کاروباری آسانیوں میں پاکستان 28 درجہ بہتر پوزیشن پر آگیا ہے۔ تجارتی خسارہ ختم ہونے والا ہے۔ اس پر آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی رپورٹیں آگئی ہیں۔ کامیاب جوان اور احساس پروگرام شروع ہوگئے ہیں۔ معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔ بیوہ خواتین‘ بزرگ شہریوں کے لئے کفالت پروگرام شروع ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی ترقی میں ساتھ دیں اور آگے بڑھیں۔

مزید خبریں