مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا تقریب سے خطاب

کراچی۔ 16 نومبر (اے پی پی) وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ معیشت کی بحالی کے لئے حکومتی کوششوں کے مثبت اثرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں اور برآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے، آئی ایم ایف نے بھی معاشی استحکام کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز …

کراچی۔ 16 نومبر (اے پی پی) وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ معیشت کی بحالی کے لئے حکومتی کوششوں کے مثبت اثرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں اور برآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے، آئی ایم ایف نے بھی معاشی استحکام کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز کراچی میں اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت نے معاشی سست روی کو ختم کرنے کے لئے کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کو کم کرنے اور ٹیکسوں کی وصولی کو بہتر بنانا جیسے اقدامات شامل ہیں۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ برآمد کنندگان پر صفر ٹیکس ہے تاہم مقامی فروخت پر ٹیکس ادا کرنا ہوگا، برآمد کنندگان کے لئے حکومت نے حال ہی میں 200 بلین روپے کے پیکج کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تاجروں کے لئے بہت سی مراعات کی پیشکش کی ہے لیکن معیشت کی ڈکومینٹیشن کی ضرورت ہے۔ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے معاشی استحکام کے اقدامات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے افراط زر کے اثرات کو کم کرنے میں کمزور طبقات کی مدد کے لئے سیفٹی نیٹ کے طور پر مختلف پروگراموں کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت، معیاری تعلیم اور معیاری زندگی کے دیگر کئی امور صوبائی حکومتوں کے دائرہ کار میں آتے ہیں تاہم وفاقی حکومت نے معاشرے کے غریب طبقات کے معیار زندگی اور معاشی معیار کو بہتر بنانے کے لئے سوشل سیفٹی نیٹ پروگراموں کے بجٹ کو دوگنا کردیا ہے۔ مشیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت نے گذشتہ سال کے مقابلہ میں اپنے اخراجات کم کردیئے ہیں اور حکومت نے گذشتہ چار ماہ سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے کوئی رقم قرض نہیں لی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسٹاک مارکیٹ میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران ٹیکس محصولات میں مجموعی طور پر 16 فیصد اور لینڈ ریونیو میں21 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 ءمیں 1.9 ملین افراد ٹیکس نیٹ کے مقابلے میں اب2019 ءمیں یہ تعداد بڑھ کر 2.7 ملین ہو گئی ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ موجودہ حکومت سابقہ حکومتوں کی جانب سے منصوبہ بندی نہ کرنے کے نتائج بھی بردداشت کر رہی ہے۔

مزید خبریں