پاکستان و کرپشن اکٹھے نہیں چل سکتے ،کرپشن کی میراث کوآگے نہیں بڑھنے دیں گے ‘رہنماء پی ٹی آئی ہمایوں اختر

لاہور۔23 نومبر(اے پی پی )پاکستان تحریک انصاف کے سینئر مرکزی رہنماو سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر خان نے کہا ہے کہ یہ طے ہے کہ پاکستان اور کرپشن ایک ساتھ نہیں چل سکتے اس لیے کرپشن کی میراث کوکسی صورت آگے نہیں بڑھنے دیا جائے گا ،(ن) لیگ نے کہا کہ نواز شریف کے معاملے پر منٹوں میں فیصلہ نہ کیا گیا تو کیا سے کیا ہوجائے گا لیکن سابق …

لاہور۔23 نومبر(اے پی پی )پاکستان تحریک انصاف کے سینئر مرکزی رہنماو سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر خان نے کہا ہے کہ یہ طے ہے کہ پاکستان اور کرپشن ایک ساتھ نہیں چل سکتے اس لیے کرپشن کی میراث کوکسی صورت آگے نہیں بڑھنے دیا جائے گا ،(ن) لیگ نے کہا کہ نواز شریف کے معاملے پر منٹوں میں فیصلہ نہ کیا گیا تو کیا سے کیا ہوجائے گا لیکن سابق وزیر اعظم کے لاہور سے لندن کے سفر میں ایسا کچھ نظر نہیں آیا جس پر وزیر اعظم عمران خان نے بات کی ۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے ایک تقریب میں پارٹی رہنمائوں اور میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ ہمایوں اختر نے کہا کہ تحریک انصاف کے لیے سیاسی چیلنجز بڑھ نہیں رہے بلکہ کم ہو رہے ہیں ،ہم نے معیشت میں بہتری کے لیے غیر معمولی فیصلوں کے ذریعے جوکڑوی گولی نگلی ہے اس کے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب موجودہ حکومت نے باگ ڈور سنبھالی تو ملک ڈالروں کی کمی کی وجہ سے ڈیفالٹ ہو سکتا تھا لیکن وزیر اعظم عمران خان نے دور اندیشی اور عملی اقدامات سے اسے روکا اور آج عالمی ادارے ہمارے اقدامات کو سراہا رہے ہیں ،آئی ایم ایف نے مہنگائی میں کمی کی پیشگوئی کی ہے اور یہ مثبت اشارہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ جلد ڈسکائونٹ ریٹ میں کمی آنا ہونا شروع ہو جائے گی جس سے مینو فیکچرنگ کا شعبہ ترقی کرے گا اور ہماری گروتھ بڑھے گی جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ،برآمد کنندگان کو 300 ارب مہیا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے ہماری مجموعی برآمدات بڑھیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ سر کلر ڈیٹ کی بہت سی وجوہات ہیں ، (ن) لیگ کے دور میں 800ارب روپے سر کلر ڈیٹ بڑھا لیکن ہمارے دور میں یہ کم ہونا شروع ہوا ہے اور قوی امید ہے کہ ہم اسے ختم کر کے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس صرف پلان اے ہے جس کے تحت ہم نے عوام کی زندگیوںمیں خوشحالی لانی ہے اور ملک کو آگے لے کر جانا ہے، موجودہ حکومت کے دور میں 10ہزار ارب روپے کا قرضہ لینے کاطعنہ دینے والے عوام کو گمراہ نہ کریں ہے ، سابقہ حکومت کی غلط پالیسیوں اور روپے کو مصنوعی طریقے سے منجمد رکھنے کی وجہ سے معیشت کا سوا ستیا س ناس ہوا،روپے کی قدر اصل جگہ پر آنے کی وجہ سے ہماری کرنسی نیچے آئی اور 10ہزار ارب میں صرف 5 ہزار ارب تو یہی بنتے ہیں ، 2 ہزار ارب روپے سابقہ حکومت کے قرض کی مد میں ادا کئے گئے ، بتایا جائے کس طرح حکومت نے 10ہزار روپے قرض لے لیا ہے ۔