اسلام آباد ۔ 3 دسمبر (اے پی پی) اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے پاکستانی خاندان سے 25 کروڑ ڈالر کی واپسی یقینی بنائی، برطانوی انسداد جرائم ایجنسی کی مقدمے میں آﺅٹ آف کورٹ حل پررضامندی کے بعد یہ پیش رفت ہوئی ہے،متعلقہ خاندان کےخلاف برطانوی انسداد جرائم ایجنسی تحقیقات کررہی تھی۔ معاہدے میں لندن میں واقع ہائیڈپارک پلیس کی جائیداد بھی شامل ہے ،مارچ 2016 میں حسن نواز نے مذکورہ …
اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے پاکستانی خاندان سے 25 کروڑ ڈالر کی واپسی یقینی بنالی، برطانوی انسداد جرائم ایجنسی کی مقدمے میں آﺅٹ آف کورٹ حل پررضامندی کے بعد یہ پیش رفت ہوئی ہے

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 دسمبر (اے پی پی) اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے پاکستانی خاندان سے 25 کروڑ ڈالر کی واپسی یقینی بنائی، برطانوی انسداد جرائم ایجنسی کی مقدمے میں آﺅٹ آف کورٹ حل پررضامندی کے بعد یہ پیش رفت ہوئی ہے،متعلقہ خاندان کےخلاف برطانوی انسداد جرائم ایجنسی تحقیقات کررہی تھی۔ معاہدے میں لندن میں واقع ہائیڈپارک پلیس کی جائیداد بھی شامل ہے ،مارچ 2016 میں حسن نواز نے مذکورہ جائیداد ملک ریاض کو فروخت کی تھی، رقم کی واپسی پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعاون کی عکاس ہے۔برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے ملک ریاض کے خاندان کے ساتھ 19 کروڑ پاﺅنڈز کی رقم یا اثاثوں کی فراہمی کے عوض تصفیہ کرنے پر رضامندی ظاہر کردی۔19 کروڑ پاﺅنڈز کی رقم یا اثاثوں کی فراہمی کے عوض تصفیہ پاکستانی شہری ملک ریاض حسین کے حوالے سے این سی اے کی تحقیقات کے نتیجے میں کیا جائے گا، جو پاکستان کے نجی شعبے کی اہم ترین کاروباری شخصیت ہیں۔این سی اے نے 19 کروڑ پاﺅنڈز کے تصفیے کی پیشکش قبول کی جس میں برطانیہ کی جائیداد میں لندن کے ون ہائیڈ پارک پلیس نامی عمارت کا ایک اپارٹمنٹ ڈبلیو 2 2 ایل ایچ شامل ہے جس کی مالیت تقریباً 5 کروڑ پاﺅنڈز ہیں، جبکہ منجمد اکاﺅنٹس میں موجود تمام فنڈز شامل ہیں۔ نیشنل کرائم ایجنسی نے اگست 2019 میں لگ بھگ 12 کروڑ پاﺅنڈز فنڈز کے حوالے سے ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت سے 8 اکاﺅنٹس منجمد کرنے کے احکامات حاصل کیے تھےاکاﺅنٹس منجمد کرنے کے یہ احکامات دسمبر 2018 میں 2 کروڑ پاﺅنڈز کے حوالے سے اسی تحقیقات سے منسلک احکامات کے بعد حاصل کیے گئے تھے، جبکہ اکاﺅنٹس منجمد کرنے کے تمام احکامات برطانوی بینک اکاﺅنٹسمیں موجود رقم سے متعلق تھے۔








