صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا معیارات اور پالیسی کے حوالے سے مسائل اور چیلنجز سے متعلق کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 4 دسمبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ معیارات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، معیارات کے حصول اور کامیابی کے لئے مستقل مزاجی اور جذبہ سے کام کرنا ہوگا، حکومت نے بیوروکریسی کے بہتر معیار کے جائزہ کے لئے ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے معیارات …

اسلام آباد ۔ 4 دسمبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ معیارات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، معیارات کے حصول اور کامیابی کے لئے مستقل مزاجی اور جذبہ سے کام کرنا ہوگا، حکومت نے بیوروکریسی کے بہتر معیار کے جائزہ کے لئے ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے معیارات اور پالیسی کے حوالے سے مسائل اور چیلنجز سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ زندگی کے ہر شعبہ میں معیار کی کلیدی اہمیت ہوتی ہے، یونیورسٹیوں کو تحقیق کے لئے ملکی مصنوعات سے مدد حاصل کرنی چاہیے۔ یونیورسٹیاں مارکیٹ کی طلب کے مطابق نوجوانوں کو تعلیم دیں تاکہ وہ بہتر انداز میں معاشرے کی خدمت کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ معیارات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، بہتر معیار کے لئے والدین اپنے بچوں کو بھاری فیسیں دے کر تعلیم دلواتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ ہمیں لوگوں پر اعتماد کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں مستقل مزاجی اور عزم سے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی دانشمندانہ پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت مستحکم ہو ئی ہے اور معاشی اشاریے مثبت سمت میں گامزن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں برطانوی شہزادہ اور ان کی اہلیہ نے پاکستان کا دورہ کیا، شاہی جوڑے کے دورہ سے پاکستان کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی اور ملک کا مثبت تشخص اجاگر ہوا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ہر شعبہ میں معیارات کو بہتر بنانے کے لئے کوشاں ہے، بیورو کریسی میں بہتر معیار کے جائزے کے لئے ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم تک رسائی پاکستان کاایک اہم مقصد ہے تاکہ مارکیٹ اور معاشرے کی ضرورت کے مطابق مسابقت کی حامل مفید افرادی قوت تیار کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں علم پر مبنی معیشت کے دور میں 20 کروڑ آبادی کی بہتری کو یقینی بنانے کے لئے تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم کا بہتر انسانی ہم آہنگی اور ٹیکنالوجی کے عوامل کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اور تعلیم کے معیار میں بہتری کے لئے مسائل کی نشاندہی اور ان کا ازالہ، پختہ عزم اور مسائل کا حل تلاش کرنا لازمی ہے۔ انہوں نے معیاری سلیبس اور تربیت یافتہ اساتذہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دور حاضر کے تقاضوں کر پورا کرنے اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لئے طلباء کو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ پر عملدرآمد، طلباء اور اساتذہ کی بہتر کارکردگی اداروں کی بین الاقوامی درجہ بندی اور بین الاقوامی تعلیمی سہولیات کی فراہمی پر متعلقہ شعبوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ تعلیمی معیار کی بہتری اور تحقیق کے فروغ کے لئے پاکستان جلد اپنے تعلیمی شعبہ کے اہداف حاصل کر لے گا۔ انہوں نے کہا کہ علم کے لئے جدوجہد صرف میرٹ تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس میں توازن بھی پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انسانی ترقی کو آگے بڑھایا جاسکے ۔ اس موقع پر وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کے وزیر شفقت محمود نے کہا کہ حکومت ملک بھر میں یکساں نصاب متعارف کرانے کے لئے اقدامات کررہی ہے تاکہ سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں مدارس کے طلباء کے درمیان امتیاز کا خاتمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب جوان پروگرام ہنر مند جوانوں کو روزگار کی فراہمی کا ذریعہ بنے گا جبکہ احساس پروگرام کے تحت انڈر گریجوایٹس پروگراموں کے لئے سالانہ 5 ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال 50 ہزار طلباء کو وظائف دیئے جائیں گے اور اگلے 4 سالوں کے دوران 2 طلباء اس سے مستفید ہوںگے۔ امریکی سفارتخانے کے ناظم الامور پال جونز نے کہا کہ پاکستان اورامریکا عشروں سے تعلیم کے شعبہ میں تعاون کررہے ہیں اور حالیہ برسوں میں امریکا نے اپنی 23 یونیورسٹیوں کی پاکستان کے تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت کو یقینی بنایا ہے اور ہر سال 100 طلباء کو ثقافتی اور تعلیمی دوروں پر امریکا بھجوایا جاتاہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت 8 ہزار پاکستانی طلباء امریکا میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ اقتصادی مواقع اور ترقی کے لئے امریکا مزید تعلیمی روابط میںبھی تعاون کرے گا۔ چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر طارق بنوری نے کہاکہ اس کانفرنس کا مقصد تعلیم کے شعبے میں ترقی اور بین الاقوامی معیار کے فروغ کے لئے مواقع اور اقدامات سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔
msf/mhn/mrb/zri 1602