اسلام آباد ۔ 4 دسمبر (اے پی پی) پاکستان میں فرانس کے سفیر ڈاکٹر مارک بارٹی اور پریمیر کاؤسیلر یوس مانوِل نے وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی، انھوں نے پاکستان کے مستقبل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اصلاحاتی اقدامات نے ملک کو عالمی کاروباری درجہ بندی اور فہرستوں میں بہتر مقام پر لانے میں مدد فراہم …
پاکستان میں فرانس کے سفیر ڈاکٹر مارک بارٹی اور پریمیر کاؤسیلر یوس مانوِل کی وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی سے ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 4 دسمبر (اے پی پی) پاکستان میں فرانس کے سفیر ڈاکٹر مارک بارٹی اور پریمیر کاؤسیلر یوس مانوِل نے وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی، انھوں نے پاکستان کے مستقبل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اصلاحاتی اقدامات نے ملک کو عالمی کاروباری درجہ بندی اور فہرستوں میں بہتر مقام پر لانے میں مدد فراہم کی، موجودہ دور حکومت میں کاروباری ماحول زیادہ سازگار ہوگیا ہے۔ فرانسیسی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور اس کے عوام کو بڑی صلاحیت سے نوازا گیا ہے اور فرانس اس صلاحیت سے فائدہ اٹھانے میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔انھوں نے وفاقی وزیر کو پاکستان میں ہائیڈرو کاربن اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں پہلے سے کام کرنے والی فرانسیسی کمپنیوں کے بارے بھی آگاہ کیا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کا فرانس کے ساتھ تجارتی سرپلس ہے جس میں ٹیکسٹائل ، چمڑے کی مصنوعات ، پھل اور دواسازی اس کی بڑی برآمدات ہیں۔ معروف فرانسیسی جہاز رانی اور لاجسٹک کمپنیاں ، رینالٹ اور پیوٹ جیسی آٹو اور ہول سیل کمپنیاں پاکستان کی 200 ملین افراد پر مبنی مارکیٹ میں دلچسپی رکھتی ہیں، موجودہ دور حکومت میں کاروباری ماحول زیادہ سازگار ہوگیا ہے۔ وفد نے حکومت کے اصلاحاتی اقدامات کی بھی تعریف کی جس نے پاکستان کو عالمی کاروباری درجہ بندی اور فہرستوں میں بہتر مقام پر لانے میں مدد فراہم کی ہے۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے بندرگاہوں اور خاص طور پر کراچی کی ترقی کے لیے جن منصوبوں پر وزارت کام کر رہی ہے ان کا تفصیلی ذکر کیا۔انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو خالی خزانہ اور خراب معاشی صورتحال ورثے میں ملی لیکن بروقت کوششوں اور صحیح اقدامات کی وجہ سے معاشی سطح پر نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ وفاقی وزیر نے کراچی بی آر ٹی منصوبے کے ایک حصے میں زیرو ایمیشن ریڈ لائن بس سروس کے قیام میں فرانس کے کردار کو سراہا جس کے تحت جانوروں کے فضلے کو بسوں کے ایندھن ، صنعتی گریڈ پانی ، سی او ٹو اور زراعت کے لیے کھاد پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، یہ منصوبہ 2020ء میں مکمل ہو گا۔فرانس نے اسلام آباد اور لاہور کو اپنی سیاحتی کیٹیگری میں شامل کیا ہے اور اس فہرست میں کراچی اور گلگت اگلے نمبر پر ہیں۔فریقین نے اس شعبے سے متعلق تجربات کے تبادلے پر اتفاق کیاکیونکہ فرانس میں ہر سال 90 ملین سیاحوں کی آمد ہوتی ہے۔انھوں نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کی تلاش کے لیے تاجروں اور کمپنیوں کے ساتھ اعلی سطح کے اجلاسوں پر بھی اتفاق کیا۔








