بھارتی گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام کے منصوبہ سازوں کو ہمسایہ ممالک میں اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں بھاشن زیب نہیں دیتا، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد ۔ 13 دسمبر (اے پی پی) پاکستان نے بھارتی پارلیمنٹ کی جانب سے شہریت کے متنازعہ ترمیمی بل کی منظوری سے متعلق وزیرِاعظم عمران خان کے ٹویٹ کے بارے میں بھارتی وزیر خارجہ کے تبصرہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام کے منصوبہ سازوں کو ہمسایہ ممالک میں اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں بھاشن زیب نہیں دیتا۔ جمعہ …

اسلام آباد ۔ 13 دسمبر (اے پی پی) پاکستان نے بھارتی پارلیمنٹ کی جانب سے شہریت کے متنازعہ ترمیمی بل کی منظوری سے متعلق وزیرِاعظم عمران خان کے ٹویٹ کے بارے میں بھارتی وزیر خارجہ کے تبصرہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام کے منصوبہ سازوں کو ہمسایہ ممالک میں اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں بھاشن زیب نہیں دیتا۔ جمعہ کو ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کئی بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور غیر جانبدار مبصرین بھی قانون سازی کو مسلمانوں کے خلاف امتیازی اور غیر آئینی قرار دے چکے ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ بھارت کی یہ قانوں سازی، پاکستان میں مبینہ طور پر غیر مسلم آبادی میں کمی اور ان پر ظلم و ستم سے متعلق جھوٹ کی بنیاد پر استوار ہے۔ عالمی میڈیا نے بھی بھارتی اقدام کی بھر پور کوریج اور بالخصوص 2014ء بی جے پی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد بھارت میں اقلیتوں کے قابل افسوس حالات زار کی مذمت کی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارتی گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام کے منصوبہ سازوں کو ہمسایہ ممالک میں اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں بھاشن زیب نہیں دیتا، آج کا بھارت ہجوم کے ذریعے دلت سمیت اقلیتی برادری کے ارکان پر تشدد اور ظلم و ستم کی علامت بن چکا ہے جس میں اکثر حکومتی اشیر باد بھی حاصل ہوتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ چار ماہ سے 9 لاکھ بھارتی فورسز کی جانب سے تقریباً 80 لاکھ نہتے کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ بھارت وہ ملک ہے جہاں انسانی حقوق اور اقلیتوں کے حقوق کا کوئی احترام نہیں۔ ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے مسلمانوں سمیت بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کا نوٹس لیں۔