اسلام آباد ۔ 13 دسمبر (اے پی پی) پاکستان اور عالمی بینک نے خیبر پاس اقتصادی راہداری منصوبے (کے پی ای سی) کی تعمیر کیلئے عالمی بینک سے 406.6 ملین ڈالر قرض کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب جمعہ کو یہاں اقتصادی امور ڈویژن میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں وفاقی وزیر اقتصادی امور محمد حماد اظہر نے خصوصی شرکت کی جبکہ سیکرٹری …
پاکستان اور عالمی بینک کے خیبر پاس اقتصادی راہداری منصوبے کی تعمیر کیلئے عالمی بینک سے 406.6 ملین ڈالر قرض کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط منصوبے کیلئے مالی معاونت کی فراہمی کے معاہدے پر ہونے والے دستخط سے عالمی بینک کی جانب سے موجودہ حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے پر اعتماد کی عکاسی ہوتی ہے’ وفاقی وزیر اقتصادی امور محمد حماد اظہر

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 13 دسمبر (اے پی پی) پاکستان اور عالمی بینک نے خیبر پاس اقتصادی راہداری منصوبے (کے پی ای سی) کی تعمیر کیلئے عالمی بینک سے 406.6 ملین ڈالر قرض کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب جمعہ کو یہاں اقتصادی امور ڈویژن میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں وفاقی وزیر اقتصادی امور محمد حماد اظہر نے خصوصی شرکت کی جبکہ سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن ڈاکٹر سید پرویز عباس اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے نمائندہ نے حکومت پاکستان کی جانب سے قرض کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط کئے جبکہ عالمی بینک کی جانب سے کنٹری ڈائریکٹر پاچا ماتو الینگوان نے دستخط کئے۔ کے پی ای سی منصوبے کا مقصد 48 کلو میٹر طویل چار رویہ ایکسپریس موٹروے کی تعمیر ہے جو پشاور سے طورخم تک تعمیر کی جائے گی جبکہ منصوبہ کی تکمیل سے ملک کی اقتصادی ترقی کے فروغ اور خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقوں کی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔ یہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت مکمل کیا جائے گا جس میں پرائیویٹ فنانسنگ سے ایکسپریس وے کے مختلف مقامات پر اقتصادی زونز اور دیگرشاہراہیں بھی تعمیر کی جائیں گی جس سے اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچرز کے رابطوں کی بہتری اور اقتصادی زونز کی تعمیر سے ان زونز میں نجی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے بھرپور مواقع دستیاب ہونگے۔ واضح رہے کہ خیبر پاس جنوبی اور وسطی ایشیا کے ممالک کو جوڑتا ہے جو صدیوں سے تجارت کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔ خیبر پاس سے گزرنے والی پشاور تا کابل ایکسپریس وے (کوریڈور 5 اور 6) مشرقی ایشیائی علاقائی اقتصادی تعاون (سی اے آر ای سی ) کی عکاسی کرتی ہے۔ کوریڈور 5 پاکستان سے گزرتا ہے جو لینڈلاک ملک افغانستان، تاجکستان، ازبکستان کو بحیرہ عرب سے ملانے کا سب سے قریب ترین راستہ ہے جبکہ کوریڈور 6 یورپ، مشرق وسطیٰ اور روس تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ واضح رہے کہ پشاور طورخم ایکسپریس وے کی تعمیر سے سفری اوقات میں کمی ہو گی اور خیبر پاس کے راستے علاقائی و بین الاقوامی تجارت کے اخراجات کو کم کیا جا سکے گا جس کو بعد ازاں کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور کے علاوہ پاکستان میں سڑکوں اور موٹرویز سے جوڑا جائے گا۔ منصوبہ کی تکمیل سے ایک لاکھ سے زائد روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ قرض کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط کی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے اقتصادی امور ڈویژن کے وفاقی وزیر محمد حماد اظہر نے کہا کہ اس اہم منصوبے کیلئے مالی معاونت کی فراہمی کے معاہدے پر ہونے والے دستخط، عالمی بینک کی جانب سے موجودہ حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے پر اعتماد کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس موقع پر ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے موجودہ حکومت کی اقتصادی اصلاحات کو سراہتے ہوئے یقین دلایا کہ عالمی بینک ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کے اضافے اور پاکستان کی معیشت کو درست راستے پر گامزن کرنے کے حوالے سے ہر طرح کی ممکنہ مالی اور تکنیکی معاونت کی فراہمی کیلئے پرعزم ہے۔








